مضامین

قومی کھلاڑیوں کے رویئے کا سنگین بحران۔ پاکستان کا وقار اور کردار کامقابلہ

تحریر: کھیل دوست شاھدالحق

قومی کھلاڑیوں کے رویئے کا سنگین بحران۔ پاکستان کا وقار ، کردار کامقابلہ۔

تحریر: کھیل دوست شاھدالحق

کرکٹر یاسر علی،سکواش کی مہوش علی، اور ٹینس کے حامد اسرار کو خاص طور پر اخلاقی تربیت کی ضرورت ھے۔گزشتہ چند ماہ میں پاکستان کی کھیلوں کی دنیا میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنہوں نے ہمارے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

قزاکستان میں جونیئر ڈیوِس کپ کے دوران ٹینس کھلاڑی میکائیل علی بیگ نے بھارتی حریف کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار کرتے ہوئے مناسب مصافحہ کرنے سے انکار کیا۔ برطانیہ میں کرکٹر حیدر علی کو مبینہ ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا —

اگرچہ بعد میں ضمانت پر رہا ہو گئے، لیکن پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا میں اسکواش کھلاڑی مہوش علی نے ہانگ کانگ کی کھلاڑی کے خلاف میچ ہارنے کے بعد نازیبا اشارہ کیا اور مصافحہ کیے بغیر کورٹ سے باہر چلی گئیں۔

یہ واقعات کسی ایک کھیل یا ایک فرد کا مسئلہ نہیں — یہ اس بڑے خلا کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارے کھلاڑی کھیل کے میدان میں تو تربیت پاتے ہیں، مگر میدان سے باہر زندگی کے اصولوں اور عالمی دنیا کے آداب سے ناواقف ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے حیدر علی کے معاملے پر فوری کارروائی کی، مگر دیگر فیڈریشنز نے اسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس غیر متوازن رویے سے دنیا کو یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان اپنے کھلاڑیوں کے رویے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

اب وقت ہے کہ ایک "ایتھلیٹس ایتھکس اینڈ رسپانسبلٹی پروگرام” تمام قومی کھلاڑیوں کے لیے لازمی کیا جائے، جس میں: آئی او سی (IOC) کے سیف گارڈنگ کورسز بھی شامل ہوں تاکہ کھلاڑی اور دیگر افراد بدسلوکی اور ہراسانی سے محفوظ رہیں۔

بین الاقوامی آداب اور ثقافتی حساسیت کی تربیت دی جائے تاکہ کھلاڑی ہر ملک میں پاکستان کے "ایمان، اتحاد، تنظیم” کے بنیادی اصول کی عکاسی کریں۔

میزبان ملک کے قوانین سے آگاہی دی جائے تاکہ لاعلمی میں کسی جرم کا ارتکاب نہ ہو۔

میڈیا ٹریننگ، فینز سے تعلقات، اور ذاتی تحفظ کے اصول سکھائے جائیں — بشمول اس بات کے کہ بین الاقوامی دوروں میں ممکنہ "ہنی ٹریپس” میڈیا وار یا خطرناک حالات سے کیسے بچا جائے۔

ذہنی توجہ اور کھیل پر ارتکاز برقرار رکھنے کی عملی مشق کرائی جائے۔

یاد رکھیں، قومی جَرسی پہننے والا کھلاڑی صرف میدان میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ دنیا میں ملک کا چلتا پھرتا عکس ہوتا ہے۔ ایک غلط مصافحہ، ایک غیر محتاط لفظ، ایک نازیبا حرکت یا اشارہ برسوں کی محنت اور فخر کو مٹی میں ملا سکتا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ اخلاقیات کو قومی کھلاڑیوں کی یونیفارم کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ کھیل مہارت سے جیتے جاتے ہیں، لیکن عزت اقدار سے — اور یہی اصل جیت ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔

شاہد الحق کھیلوں اور صحافت سے گزشتہ چالیس برس سے وابستہ ہیں۔ آپ قومی سطح کے باسکٹ بال کھلاڑی اور کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ رہ چکے ہیں۔ کھیلوں میں حقوق، امن اور ترقی کے فروغ کے علمبردار ہیں،

جبکہ اسپورٹس اینڈ فٹنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی چیئرمین ہیں۔ آپ SPOFIT یوٹیوب چینل کے بانی و اینکر بھی ہیں، جہاں کھیلوں اور کھلاڑیوں کے مسائل پر مثبت اور تحقیقی مواد پیش کرتے ہیں۔

رابطے کے لیے: 0333-5161425 ;  spofit@gmail.com www.youtube.com/spofit

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!