دیگر سپورٹس

پاکستانی کوہ پیما سرباز علی خان نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا.

پاکستانی کوہ پیما سربازعلی خان نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا ،

سرباز نے بغیر مصنوعی آکسیجن دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سرکرلی۔

سرباز علی خان بغیر مصنوعی آکسیجن ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنے والے دوسرے پاکستانی بن گئے ہیں ،

اس سے قبل ساجد سدپارہ یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

پاکستانی کوہ پیما سربازعلی خان نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو بنا مصنوعی آکسیجن کے سر کرلیا ہے۔ سربازعلی بنا مصنوعی آکسیجن کے ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنے والے دوسرے پاکستانی ہیں، اس سے قبل ساجد سدپارہ یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

سرباز علی دنیا میں موجود 8 ہزار میٹر سے بلند 14 میں سے 11 چوٹیاں بغیر آکسیجن کی سپورٹ کے سر کر چکے ہیں۔ وہ بنا آکسیجن 11 چوٹیاں سر کرنے والے پہلے اور واحد پاکستانی ہیں۔

فخر گلگت بلتستان 34 سالہ سرباز خان کا تعلق ضلع ہنزہ کے گاؤں علی آباد سے ہے، انہوں نے بطور کوہ پیما اپنا کیریئر 2016 میں شروع کیا تھا۔

سرباز خان اس سے قبل بوتل بند آکسیجن کا استعمال کرتے ہوئے ماؤنٹ ایوریسٹ کو سر کرچکے تھے، تاہم آج پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے 12 بجے 8849 میٹر بلند چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب رہے اور آکسیجن کا استعمال کیے بغیر پہاڑ کو سر کرنے والے دوسرے پاکستانی بن گئے ہیں۔

رواں برس کے آغاز میں سرباز خان کو شیشاپنگما کی چوٹی کو سر کرنے کے منصوبے میں تاخیر کرنا پڑی، جو ان کی 14ویں اور باقی رہ جانیوالی آخری 8 ہزار میتر بلند چوٹی ہوتی، چینی حکام نے رواں سیزن کے دوران مذکورہ چوٹی کو کسی بھی کوہ پیمائی مشن کے لیے کھولنے سے انکار کردیا تھا۔

دو سال قبل سرباز خان نے دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کن چن جونگا سر کی تھی۔
32 سالہ سرباز خان گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کے علاقے علی آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2016 میں بطور کوہ پیما اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

وہ اپنے آٹھ سالہ کیریئر میں اب تک 8 ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے 11 چوٹیاں سر کرچکے ہیں اور ایسا کرنے والے واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں۔ سرباز خان موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے نامور کوہ پیما علی سدپارہ کے شاگرد ہیں۔

سنہ 2019 میں سرباز خان نے 8 ہزار 516 میٹر کی چوٹی ماؤنٹ لوہٹسے بغیر آکیسجن کے سر کر کے دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی سر کرنے والے پہلے پاکستانی بننے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

انہوں نے 2017 میں نانگا پربت، 2018 میں کے ٹو اور 2019 میں براڈ پیک سر کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا۔
سرباز خان 2020 میں موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی میں بھی شامل رہے تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!