خیبرپختونخوا کے باصلاحیت مارشل آرٹس کھلاڑی وکیل افریدی، ایک چٹان جیسا فائٹرکے طور پرجانے جاتے ہیں
خیبرپختونخوا کے باصلاحیت مارشل آرٹس کھلاڑی وکیل افریدی،
ایک چٹان جیسا فائٹرکےطورپرجانے جاتے ہیں
رپورٹ ; غنی الرحمن
خیبرپختونخوا کی سرزمین ہمیشہ سے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل کھلاڑیوں کو جنم دیتی آئی ہے، لیکن اکثر یہ ٹیلنٹ وسائل کی کمی اور حکومتی عدم توجہی کے باعث پس پشت چلا جاتا ہے۔
انہی باصلاحیت کھلاڑیوں میں ایک نام وکیل افریدی کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی محنت اور عزم کی بدولت مارشل آرٹس میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔
وکیل افریدی مارشل آرٹس کے کئی سٹائلز میں مہارت رکھتے ہیں، لیکن وہ خاص طور پر کیوکشن کائی کراٹے کے ایک مایہ ناز فائٹر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی فائٹنگ صلاحیتیں انہیں ایک ناقابل شکست کھلاڑی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
وہ جب فائٹ کے رنگ میں اترتے ہیں تو مخالف کھلاڑی کے لیے ایک چٹان ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ فائٹ کے دوران تھکن محسوس نہیں کرتے اور آخری لمحے تک بھرپور جوش اور توانائی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔
وکیل افریدی نے اپنے کیریئر میں کئی مقابلوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں اور اپنی مہارت کی بدولت کئی بار فتح کے جھنڈے گاڑے۔ ان کے جارحانہ اور تکنیکی انداز نے انہیں ایک بے مثال فائٹر کے طور پر پہچان دی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایسے ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں کی کوئی خاص قدر نہیں کی جاتی۔ فاتح کھلاڑیوں کو نہ صرف حکومتی سرپرستی سے محروم رکھا جاتا ہے بلکہ اکثر انہیں کسی مالی انعام سے بھی نوازا نہیں جاتا۔
اگر کسی کو انعام ملتا بھی ہے تو وہ سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے حقیقی ٹیلنٹ نظر انداز ہو جاتا ہے۔
اتنے شاندار ٹیلنٹ اور کامیابیوں کے باوجود وکیل افریدی کو مناسب روزگار نہیں مل سکا۔ وہ کئی سرکاری اور نجی اداروں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، لیکن کسی نے ان کے ہنر اور مہارت کو وہ عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔
مجبوراً، وہ آج کل رکشہ چلا کر اپنے گھر کے اخراجات پورے کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ وہ آج بھی اپنی پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں اور مارشل آرٹس کے میدان میں مزید کامیابیوں کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ وقت ہے کہ حکومت اور متعلقہ کھیلوں کے ادارے ایسے کھلاڑیوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ وکیل افریدی جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کو سرکاری سطح پر سرپرستی ملنی چاہیے،
تاکہ وہ اپنے کھیل پر مکمل توجہ دے سکیں اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکیں۔ اس کے علاوہ، پرائیویٹ اداروں اور سپانسرز کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کی مالی معاونت کریں، تاکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مناسب پلیٹ فارم میسر آ سکے۔
وکیل افریدی کی کہانی پاکستان میں موجود ان گنت کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتی ہے جو وسائل کی کمی کے باوجود اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ان کا عزم اور استقامت قابلِ ستائش ہے، اور اگر انہیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بن سکتے ہیں۔