Gamesاسپیشل سپورٹس-پیرا سپورٹسدیگر سپورٹس

معذور بچوں کو ٹریڈیشنل تائیکوانڈو کھیل سکھائیں گے: سید علی عمران

ماہر کوچز، فزیو تھراپسٹ ،سپورٹس سائیکالوجسٹس کی مدد سے پیرا ایتھلیٹ کی صلاحیتیں نکھاریں گے

معذور بچوں کو ٹریڈیشنل تائیکوانڈو کھیل سکھائیں گے: سید علی عمران

ماہر کوچز، فزیو تھراپسٹ ،سپورٹس سائیکالوجسٹس کی مدد سے پیرا ایتھلیٹ کی صلاحیتیں نکھاریں گے

پیرا ایتھلیٹ کی کھیل کے میدان میں حوصلہ افزائی ان کی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتی ہے: تقریب سے خطاب

اسلام آباد( سپورٹس لنک رپورٹ) گلوبل ٹریڈیشنل تائیکوانڈو فیڈریشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل سید علی عمران نے کہا ہے کہ کھیلوں کے میدان میںمعذور کھلاڑیوں (پیرا ایتھلیٹس) کی حوصلہ افزائی کرنے سے ان میں اعتماد آتا ہے ،

جب انہیں داد تحسین ملتی ہے تو ان کا یہ یقین پختہ ہوتا ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں، یہ حوصلہ افزائی انہیں زندگی کی دیگر رکاوٹوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے،

کھیلوں کے ذریعے معذور افراد کو معاشرے کا ایک اہم اور فعال حصہ بننے کا موقع ملتا ہے،یہ عمل معاشرے میں موجود اس سوچ کو ختم کرتا ہے کہ معذور افراد دوسروں پر بوجھ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تائیکوانڈو کھیل کے سابق پلیئر سید علی عمران نے کہا کہ گلوبل ٹریڈیشنل تائیکوانڈو فیڈریشن پاکستان معذور کھلاڑیوں (پیرا ایتھلیٹس) کو کھیل کی تمام سہولیات فراہم کرکے صحت مندانہ سرگرمیوں میں شرکت کے قابل بنائے گی،

معذورتائیکوانڈو پلیئرز کو کھیل کی تمام سہولیات فراہم کرکے گروم کریں گے ،پیرا اسپورٹس کی تربیت رکھنے والے ماہر کوچز، فزیو تھراپسٹ اور اسپورٹس سائیکالوجسٹس کی مدد سے ان پیرا ایتھلیٹس کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے گا،

ابتدائی سطح سے استعداد ابھارنے کیلئے سکولوں اور اضلاع کی سطح پر پیرا اسپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامزشروع کریں گے ،ان اقدامات کی بدولت معذور افراد نہ صرف بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں

بلکہ معاشرے میں ایک خود مختار اور فعال زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔گلوبل ٹریڈیشنل تائیکوانڈو فیڈریشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل سید علی عمران نے کہا کہ جب ایک معذور کھلاڑی کھیل کے میدان میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ لاکھوں ایسے دوسرے افراد کیلئے امید کی کرن بن جاتا ہے

جو زندگی میں مایوسی کا شکار ہوتے ہیں،معذور کھلاڑیوں کی کھیل کے میدان میں حوصلہ افزائی نہ صرف ان کی ذاتی زندگی میں مثبت انقلاب لاتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں مساوات اور شمولیت کا ماحول قائم کرتی ہے۔

جب خصوصی صلاحیتوں کے حامل ان کھلاڑیوں کو مساوی مواقع اور پذیرائی ملتی ہے تو وہ اپنی معذوری کو مجبوری کے بجائے طاقت میں بدل دیتے ہیں،

کھیل کا میدان معذور افراد کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ معاشرے کا ایک فعال اور کارآمد حصہ ہیں،مناسب حوصلہ افزائی سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ زندگی کی دیگر رکاوٹوں کا مقابلہ بھی ہمت سے کرتے ہیں،

جب معذور کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو سراہا جاتا ہے تو عوام کا رویہ محض ”ہمدردی“کے بجائے ”احترام اور تحسین“میں بدل جاتا ہے۔ سید علی عمران نے کہا کہ معذور بچوں کو کھیل کے میدان میں لانا ان کی جسمانی، ذہنی اور سماجی نشوونما کیلئے بہت ہی ضروری ہے ،

کھیلوں کی سرگرمیاں ان بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور انہیں معاشرے کا ایک فعال فرد بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں،کھیل کے ذریعے معذور بچوں میںذہنی تناو ¿ کم اور مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے،میدان میں شرکت سے معذوربچوں میں تنہائی کا احساس ختم ہوتا ہے اور وہ خود کو معاشرے کے دیگر افراد کے برابر سمجھتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!