پیرس کے ہیرو کا زوال - ارشد ندیم کے ابتدائی کوچ اپنے شاگرد کی کارکردگی سے مایوس
پیرس اولمپکس 2024 میں 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ 118 سالہ اولمپک ریکارڈ توڑ کر پاکستان کو 40 سال بعد گولڈ میڈل دلانے والے ارشد ندیم کے ابتدائی کوچ فیاض احمد بخاری اپنے ہونہار شاگرد کی حالیہ ناقص کارکردگی سے سخت مایوس ہیں۔
پاکستان واپڈا میں ٹیکنیکل کوچ کی ذمہ داریاں نبھانے والے فیاض بخاری نے 54 ویں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے موقع پر این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ارشد ندیم کی زندگی سخت محنت سے عبارت ہے، لیکن بدقسمتی سے انجریز نے ان کی کارکردگی کا تسلسل توڑ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کہنی، گھٹنے اور کندھے کی تکلیف کے باعث ارشد اپنی فارم برقرار نہیں رکھ سکے۔ اگر درست سمت میں توجہ دی جائے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے تو وہ ان انجریز سے نجات پا کر دوبارہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پیرس کے بعد ارشد ندیم راتوں رات ارب پتی بن گئے تھے، حکومت نے انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے بھی نوازا تھا، لیکن اس کے بعد ان کی کارکردگی مسلسل زوال کا شکار ہے۔
کامن ویلتھ گیمز گلاسگو 2026 میں وہ نویں پوزیشن پر آئے، بڈاپسٹ میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 81.49 میٹر کے ساتھ پانچویں اور جاپان میں ایشین گیمز 2026 میں 80.29 میٹر کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہے اور میڈل سے محروم رہے۔
2 جنوری 1997 کو خانیوال کی تحصیل میاں چنوں کے ایک گاؤں میں ایک راج مستری کے گھر پیدا ہونے والے ارشد ندیم نے ابتدا میں کرکٹ، فٹبال اور کبڈی کھیلی، بعد میں واپڈا میں روزگار کی تلاش میں آئے تو فیاض بخاری نے ان کی صلاحیتوں کو پہچان کر جیولن تھرو کی جانب راغب کیا۔