کرکٹ

کشمیر کی کشیدہ صورتحال،شاہد آفریدی اور گوتھم گھمبیر آمنے سامنے

اسلام آباد(سپورٹس لنک رپورٹ)قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔گزشتہ روز بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔خیال رہے کہ خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی کے تحت مقبوضہ کشمیر کو اس کے حق سے محروم پر قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کے حق میں آواز بلند کی۔

https://twitter.com/SAfridiOfficial/status/1158395150453882882

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق دیا جانا چاہیے، ہم سب کی طرح انہیں آزادی کا حق ملنا چاہیے۔شاہد آفریدی نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ آخر کیوں بنائی گئی تھی اور وہ کیوں سو رہی ہے؟ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جاری بلااشتعال جارحیت اور جرائم کا نوٹس لینا جانا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس سلسلے میں ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔شاہد آفریدی کی اس ٹوئٹ پر ان کے حریف تصور کیے جانے والے گوتم گمبھیر نے معاملے کی حساسیت کو سمجھے بغیر ایک مرتبہ پھر آل راؤنڈر کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اپنایا اور جواب دیتے ہوئے ہرزہ سرائی کی۔آفریدی کی اس ٹوئٹ پر سابق بھارتی اوپنر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے نومنتخب رہنما نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاہد آفریدی بالکل درست ہیں، یہاں بلااشتعال جارحیت ہو رہی ہے، انسانیت سوز جرائم سرزد ہو رہے ہیں

https://twitter.com/GautamGambhir/status/1158549181436268544

اس بات کو اٹھانے پر انہیں سراہنا چاہیے لیکن وہ ایک بات کا ذکر کرنا بھول گئے کہ یہ سب ‘پاکستان کے کشمیر’ میں ہو رہا ہے۔اپنی ٹوئٹ کے اختتام پر انہوں نے مزید تضحیک آمیز رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ آفریدی کو بیٹا کہہ کر پکارا اور کہا کہ پریشان نہ ہوں، بیٹا ہم جلد ہی اسے حل کریں گے۔واضح رہے کہ شاہد آفریدی اور گوتم گمبھیر اس سے قبل بھی کئی مرتبہ سوشل میڈیا فورم پر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

Related Articles


Back to top button