مانچسٹر(سپورٹس لنک رپورٹ)دورہ انگلینڈ پر موجود قومی کرکٹ ٹیم جو گزشتہ روز مانچسٹر پہنچی تھی نے آج انگلینڈ کیخلاف پانچ اگست سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کیلئے بھرپور مشقیں کیں
ٹیم کے کھلاڑیوں نے بائولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ پریکٹس کی جس کی نگرانی ہیڈ کوچ مصباح الحق، بائولنگ کوچ وقار یونس اور سپن بائولنگ کوچ مشتاق احمد نے کی، پاکستان اورانگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ پانچ اگست سے اولڈٹریفور میں شروع ہوگا۔
کراچی: (سپورٹس لنک رپورٹ) سابق قومی کپتان رمیز راجہ نے چیف سلیکٹر مصباح الحق کو سلیکشن سے متعلق اپنی سوچ تبدیل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف پرانے چہروں پر انحصار کی پالیسی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے یو ٹیوب چینل پر انگلینڈ ٹور کیلئے منتخب سکواڈ پر مصباح الحق کو10 میں سے 5 نمبر دیتے ہوئے رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے حیدرعلی اور خوشدل شاہ کو منتخب کر کے اچھا اقدام کیا لیکن مخصوص مائنڈسیٹ کیساتھ انہوں نے کئی پرانے چہروں کو بھی سلیکٹ کر لیا کیونکہ ان کا خیال شاید یہی ہے کہ ان کے بغیر ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ نہیں جیتا جا سکتا ہے۔
کمنٹیٹر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے چیف سلیکٹر نے یہی سوچ کپتان بابر اعظم تک بھی منتقل کردی اور انہیں سمجھا دیا ہے کہ وہ شعیب ملک اور محمد حفیظ کے بغیر ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیت ہی نہیں سکتے ہیں حالانکہ میگا ایونٹ میں ٹائٹل فتح کیلئے صرف تجربہ ناکافی ثابت ہو گا۔رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سال کے دوران آئی سی سی ایونٹس میں شعیب ملک نے 25 میچز کسی نصف سنچری کے بغیر کھیلے ہیں جبکہ محمد حفیظ اچھے آل راؤنڈر ہونے کے باوجود انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی فارم برقرار نہیں رکھ پاتے جس کا ثبوت ان کی گزشتہ ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کیخلاف کارکردگی بھی ہے۔
لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ)قومی چیف سلیکٹر مصباح الحق کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مستقبل کو نگاہ میں رکھتے ہوئے سکواڈ منتخب کیا اور ایسے کھلاڑی قابل غور سمجھے گئے جو انگلینڈ میں کامیابی دلا سکتے ہیں۔انگلینڈ ٹور کیلئے قومی ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ یہ ایک چیلنجنگ وقت ہے
کیونکہ پاکستانی پلیئرز گزشتہ چند ماہ کے دوران کرکٹ نہیں کھیل سکے لیکن یقین ہے کہ انہیں انگلینڈ پہنچ کر ایک ماہ کا جو عرصہ ملے گا اس کے دوران گہرائی کے ساتھ ہونے والی ٹریننگ پلیئرز کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کیلئے تیار کردے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹرز کی توجہ کا مرکز ریڈ بال کرکٹ ہے کیونکہ دو ماہ تک اس طرز کے میچوں پر محنت کے بعد انہیں ٹی ٹونٹی میچز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے بعد ہی کھیلنے ہیں۔
مصباح الحق کااپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ آئندہ سیریز ان کیلئے سخت چیلنج ثابت ہوگی کیونکہ پاکستانی کھلاڑی مارچ سے کسی بھی قسم کی مسابقی کرکٹ نہیں کھیل سکے جبکہ انگلش ٹیم ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کھیل کر ان کے مقابل آئے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ گرین شرٹس کو انگلینڈ پہنچتے ہی میدان میں اترنا ہوگا تاکہ پہلے ٹیسٹ سے قبل ٹریننگ سیشنز اور پریکٹس میچوں کے مواقع کا بھرپور انداز سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ انگلش ٹور کیلئے پلیئرز کا انتخاب کرتے ہوئے مستقبل کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی کھلاڑی کوچنگ سٹاف میں شامل یونس خان اور مشتاق احمد کی وسیع معلومات سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ انہیں انگلینڈ کیخلاف سیریز میں مدد مل سکے۔