مضامین

2 جولائی، کھیلوں کی صحافت کا یومِ تجدید! کیا ہم واقعی متحد اور جدیدیت کے لئےتیار ہیں؟

2 جولائی، کھیلوں کی صحافت کا یومِ تجدید! کیا ہم واقعی متحد اور جدیدیت کے لئےتیار ہیں؟

تحریر:(کھیل دوست) شاہد الحق

2 جولائی 2025 کو دنیا بھر میں "ورلڈ اسپورٹس جرنلسٹس ڈے” منایا گیا، جو انٹرنیشنل اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن (AIPS) کے قیام کی 101 ویں سالگرہ بھی تھی۔ جہاں دنیا اس دن کو صحافت کے مستقبل، پیشہ ورانہ تربیت، اور جدید تقاضوں کے مطابق ترقی کی سمت میں مناتی ہے، وہیں پاکستان میں بھی اس دن کی اپنی ایک صورت ھے۔

ملک کے مختلف شہروں میں — راولپنڈی، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، بلوچستان، لاہور، فیصل آباد، ملتان اور کراچی — میں علاقائی تنظیموں نے اس دن کو مختلف انداز سے منایا۔ کہیں یادگار تقریبات ہوئیں، کہیں کیک کاٹے گئے، کہیں سینئر صحافیوں اور عظیم کھلاڑیوں کی یادیں تازہ کی گئیں، اور تصویری سیشنز نے ماحول کو خوشگوار بنایا۔

ان سب تقریبات میں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن سندھ (SJAS) نے ایک قابلِ تحسین روایت قائم کی، جہاں نہ صرف اس دن کو منایا گیا بلکہ اسے ایک مقصد کے ساتھ جوڑا گیا۔

تقریب میں مرحوم آصف عظیم(اسپورٹس صحافی و ایڈمنسٹریٹر) اور مرحوم محمود ریاض (ڈائریکٹر اسپورٹس، کراچی پورٹ ٹرسٹ) کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ایک تعزیتی ریفرنس رکھا گیا۔ یہ تقریب صرف صحافیوں کے اکٹھا ھونے کا دن نہیں تھی، بلکہ خدمات کے اعتراف، احترام اور جذبے کا مظاہرہ تھی۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سپورٹس میڈیا میں پہلی بار پاکستانی کھیلوں کی صحافت کو AIPS ایوارڈز کی زینت بنانے والے دونوں صحافی قابل ستائش ہیں اور میں خراج تحسین پیش کرونگا AIPS ایورڈ لینے والی نوجوان صحافی،

روزنامہ ڈان کی انوشے انجینئر کو جنہیں بہترین نوجوان سپورٹس رپورٹر کا ایورڈ ملا اور سجاس کے ممبر ریڈیو پاکستان کے انیس الرحمن کو جنہیں بہترین آڈیو ڈاکومینٹری پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ کھیلوں سے وابستہ صحافیوں خاص طور پر نوجوانوں کے لئے یہ ایوارڈ مشعل راہ ثابت ھونگے اور آنے والے وقتوں میں بہترین سے بہترین تر کی کوشش شروع ھو گی۔

یہاں یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان اسپورٹس رائٹرز اینڈ جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PSWJA) نے ملک بھر میں موجود تمام علاقائی یونٹس کو اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کرنے کی باضابطہ ہدایت جاری کی۔

سیکریٹری جنرل اصغر عظیم صاحب نے اس دن کو کھیلوں کے ساتھ یکجہتی اور اسپورٹس جرنلزم کو اجاگر کرنے کا موقع قرار دیا، اور خود کراچی میں SJAS کی تقریب میں شریک ہوئے، جو ان کی وابستگی اور سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

امجد عزیز ملک جو کہ اس وقت AIPS ایشیا کے سیکریٹری اور پاکستان سپورٹس رائٹرز اینڈ جرنلسٹس فیڈریشن کے صدر بھی ہیں، ملک سے باہر تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں بھی تنظیم کی سرگرمیاں جاری رہی،

تاہم یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر فیڈریشن کی سطح پر ایک آن لائن سیمینار یا ویبنار منعقد کیا جاتا، تو اس دن کی اہمیت اور اتحاد کا پیغام مزید مضبوط ہوتا — ایک ایسا پلیٹ فارم جو تمام شہروں، صحافیوں، اور نئی نسل کو ایک جگہ لا کر حقیقی معنوں میں "Stronger Together” کا پیغام دیتا۔

دوسری جانب راولپنڈی اسلام آباد اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (RISJA) کا دو دھڑوں میں بٹ جانا ایک عرصے سے مسئلہ چلا آ رہا ہے۔ دونوں گروپوں نے اپنی اپنی الگ تقریبات تو کیں، مگر یہ دن مصافحے اور مفاہمت کا دن بن سکتا تھا — میں نے ایک مشورہ دیا تھا کہ آئیں، اس دن کو اتحاد کا ذریعہ بناتے ہیں،

لیکن افسوس، یہ موقع ضائع ہو گیا۔ جبکہ جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری ھے کہ ھم نوجوان اور ھم سے بہتر سوچ رکھنے والی قیادت کو سامنے لائیں اور انکی حوصلہ افزائی کریں اور سینیٹرز اور جونیئرز کے ملاپ سے بہترین تنظیم سازی کر کے بین القوامی طور پر پاکستان کی نمائندگی کو بہترین ترین بنائیں۔

فیڈریشن کی قیادت کو بھی چاہیے تھا کہ وہ ان گروپوں کو ایک ساتھ لانے میں اپنا کردار ادا کرتی، تاکہ ایک مثبت اور متحد پیغام دنیا کو دیا جا سکتا۔

اس دن کی مناسبت سے مجھے اپنا 1986 کا واقعہ یاد آتا ہے جب میں ایک نوجوان باسکٹ بال پلیئر تھا۔ میں نے ایک مشہور اخبار میں باسکٹ بال میچ کی رپورٹ دیکھی جس میں "پوائنٹس” کی جگہ "گول” لکھا گیا تھا۔ دل برداشتہ ہو کر میں نے ایڈیٹر کو خط لکھ دیا۔

کچھ دن گزرے تھے کے روزنامہ جنگ کے شریف خان فیروزپوری صاحب، جو اس وقت کے مشہور ترین سینئر اسپورٹس رپورٹر تھے، باسکٹ بال کورٹ میں آئے اور مجھ سے کہا:

"بیٹا، کیا تم نے خط لکھا تھا ایڈیٹر کو۔۔۔؟ میں ایکدم سے بولا جی جناب۔۔۔ ابھی میرا جملہ مکمل بھی نہ ھو پایا تھا تو خان صاحب نے کہا میں شرمندہ ہوں کے ھمارے رپورٹر نے یہ غلطی کی۔ لیکن اگر تم اتنا جذبہ رکھتے ہو تو آئندہ تم ہی باسکٹ بال کی رپورٹ لکھو گے۔”

میں حیران و پریشان کھڑا رہا۔ پھر میں نے کہا: "سر، اگر آپ مجھے اتنا اعتماد دے رہے ہیں، تو لکھنے میں میری رہنمائی بھی کیجئے۔” اور جواب میں انہوں نے مجھے روزنامہ جنگ آنے کی دعوت دے ڈالی۔

اگلے ہی دن میں اپنے قریبی ساتھی مرحوم ارجمند جو بسکٹ بال کے مشہور کھلاڑی تھے کے ساتھ روزنامہ جنگ کے دفتر پہنچا، جہاں خان صاحب نے نہ صرف نیوز روم کا دورہ کرایا بلکہ مجھے باقاعدہ سکھایا کہ رپورٹ کیسے بنتی ہے، ایڈیٹنگ کیسے ہوتی ہے، خبر کا وزن کیا ہوتا ہے۔

میرا پہلا مضمون روزنامہ جنگ میں شائع ہوا، جو اس وقت کے پاکستان کے صفحہ اول کے اخبارات میں شمار ھوتا تھا اور وہی میرے صحافتی سفر کا آغاز تھا۔ میں اس سفر میں محترم شریف خان فیروزپوری صاحب کی شفقت و رہنمائی کو خراج تحسین پیش کرتا ھوں کہ میری صحافتی ابتداء ان کے بغیر ناممکن تھی۔

بعد ازاں سینیئر صحافی صوفی رفیق صاحب (APP) نے مجھے گریجویشن کے بعد اسپورٹس رپورٹر بننے کی پیشکش کی جو میں نے خوشی خوشی قبول کر لی۔ لیکن میرا دل اب بھی کھیل میں لگا ہوا تھا، اور شام کی رپورٹر ڈیوٹی میری پریکٹس سے متصادم ھو رہی تھی۔ لہذا میں کھیل کو صحافت پر ترجیح دی اور ایک ماہ مکمل کئے بغیر نوکری چھوڑ دی، اور آزاد صحافت کو ترجیح دی اور لکھنے کا سلسلہ کبھی نہیں رکا۔

اس سفر میں شفقت عزیز اعوان روزنامہ پاکستان، شکیل اعوان روزنامہ جنگ، اصغر علی مبارک پی پی اے، اور گیبرل ڈیسوزا دی نیوز، جیسے عظیم سپورٹس جرنلسٹس کی حوصلہ افزائی ھمیشہ ساتھ رہی۔

الحمدللہ، آج تک سینکڑوں مضامین، رپورٹیں، اور فیچر اسٹوریز میں نے مقامی و بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں لکھیں۔ میرا تجربہ بطور کھلاڑی، کوچ، اور فٹنس ٹرینر، میرے صحافتی سفر میں مجھے وہ اندازِ نظر دیتا ہے جس سے میں تحقیقاتی، بامقصد، اور سبق آموز صحافت کی طرف رجوع کر سکوں۔ اور ھمیشہ اس کی کوشش جاری رکھی۔

جدید صحافت سے ھم آہنگ ہونا اور بین الاقوامی صحافیوں سے روابط میرا مشغلہ و شوق تو تھا ہی لیکن اینڈریو جننگ سے ملنا اور کھیلوں کی دنیا میں چھپے رازوں کی تلاش نے مجھے کچھ مختلف اور بڑھیا کرنے پر اکسایا اور میں پاکستانی سپورٹس کے اندر چھپے کرپشن، اقربا پروری، ڈوپنگ مافیہ اور چھپے مسائل و انکے حل کی تلاش میں نکل پڑا۔

یہ جہدوجہد دراصل مجھے باسکٹ ٹیم کیمپ سے بین کرنے کے بعد شروع ھوئی ۔ جو کھلاڑی و کوچ کے ساتھ ساتھ آفیشلز کے حقوق و تحفظ پر مبنی تھی۔ اس مقصد کے لئے 1996 میں سپورٹس اینڈ فٹنس میگزین شائع کرنے کا سوچا لیکن ڈیکلریشن کے باوجود چھپ نہ سکا۔ 2009 میں نے اپنا یوٹیوب چینل SPOFIT لانچ کیا جو پاکستان کا پہلا اسپورٹس وی لاگ چینل ھے، جہاں ہم نہ صرف کھلاڑیوں کی کہانیاں سناتے ہیں، بلکہ ان کا حق، مسائل، اور پس پردہ سچ بھی سامنے لاتے ہیں۔

آج کے دن AIPS کے صدر جناب جیانی میرلو کا پیغام بہت واضح تھا۔ انہوں نے کہا کہ:

صحافیوں کو جدید ٹولز، اخلاقیات، اور ثقافتی شعور اپنانا ہوگا

ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی اور کرپشن کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا

کھیل اور صحافت کے ذریعے نوجوان نسل کو جوڑنے کی ضرورت ہے

اور ہمیں اپنے پیشے کی عزت کے لیے قربانیاں دینا ہوں گی

پاکستان میں بھی اب وقت ہے کہ صرف خبریں نہ دیں، بلکہ تحقیقات کریں۔ ہمیں اپنے اینڈریو جیننگز چاہئیں، جو سچ بولیں، لکھیں، اور چھپے رازوں کو بے نقاب کریں۔

جبکہ صرف تقریبات کافی نہیں، قلم اٹھانا ہوگا! یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے اپنا وقت گذار لیا۔ اب وقت ہے کہ نئی نسل کو راستہ دکھائیں، انہیں سکھائیں، اور متحد کریں۔

پاکستان میں PSWJA، علاقائی یونٹس، سینئر صحافی، اور نوجوان لکھاری — سب کو ایک سمت میں آنا ہوگا۔

آئیے ہم صرف کیک نہ کاٹیں بلکہ تبدیلی کا آغاز کریں۔ صرف تصویری سلفیاں نہ بنائیں، نظریہ بنائیں۔ یہ دن تصویر کا نہیں، بصیرت کا دن ہونا چاہیے۔

شاہد الحق ;
(کھیل دوست، سابق قومی باسکٹ بال کھلاڑی، کوچ و فٹنس ٹرینر، اسپورٹس مصنف اور SPOFIT یوٹیوب چینل کے بانی میزبان)   رابطہ: spofit@gmail.com

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!