
پاکستان انڈر 16 فٹبال ٹیم کی تاریخ ساز کامیابی، قازقستان میں پہلی بار یوئیفا مقابلے میں شرکت
لاہور: پاکستان فٹبال ایک نئے اور تاریخی دور میں داخل ہونے جا رہا ہے، جہاں ملک کی انڈر 16 مردوں کی قومی فٹبال ٹیم پہلی مرتبہ یوئیفا کے تحت منعقدہ بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کرے گی۔ یہ میچز 24 سے 30 اپریل تک قازقستان میں کھیلے جائیں گے۔
یہ تاریخی پیش رفت پاکستان کے یوتھ فٹبال پروگرام کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے اور اس سے پاکستان فٹبال فیڈریشن (PFF) کی اصلاحات پر مبنی نئی سوچ اور عالمی سطح پر بحالی کی کوششوں کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔
یہ کامیابی PFF کے صدر سید محسن گیلانی کی قیادت میں ممکن ہوئی، جن کے دور میں منظم منصوبہ بندی، گورننس اصلاحات اور نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے حکام کے مطابق یوئیفا مقابلے کی دعوت کو پاکستان فٹبال کی ساکھ پر ایک بڑا اعتماد قرار دیا جا رہا ہے، بالخصوص گراس روٹس اور یوتھ لیول پر۔
اعلیٰ معیار کے بین الاقوامی حریفوں کے خلاف کھیلنے سے نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں کو قیمتی تجربہ حاصل ہوگا، جو ان کی تکنیکی اور حکمتِ عملی کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لانے میں مدد دے گا۔
یہ اقدام پی ایف ایف کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد علاقائی سطح سے آگے بڑھ کر مسلسل اور معیاری مقابلوں کے ذریعے قومی فٹبال ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
یوئیفا اور دیگر بین الاقوامی فیڈریشنز کے ساتھ روابط کے ذریعے پی ایف ایف ترقیاتی خلا کو کم کرنے اور مستقبل کے قومی کھلاڑیوں کو ایلیٹ فٹبال کے لیے تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
پی ایف ایف کے ایک عہدیدار نے کہا، “یہ محض ایک ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں بلکہ پاکستان فٹبال کے عزم اور مستقبل کی سمت کا واضح اعلان ہے۔ یہ موقع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کئی سالوں کی انتظامی مشکلات اور تنہائی کے بعد پاکستان کو عالمی فٹبال برادری میں دوبارہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔”
انڈر 16 ٹیم کی یہ شرکت پاکستان فٹبال کی گورننس پر بڑھتے اعتماد کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ PFF اور اس کی قیادت طویل المدتی منصوبہ بندی، نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور عالمی تعاون کے لیے سنجیدہ ہے۔
پی ایف ایف عہدیدار نے مزید کہا کہ جب پاکستانی نوجوان کھلاڑی یورپی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے تو یہ تاریخی دورہ نہ صرف آئندہ نسل کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگا بلکہ اس یقین کو بھی مضبوط کرے گا کہ پاکستان منظم ترقی اور مستقل بین الاقوامی روابط کے ذریعے عالمی فٹبال میں اپنی جگہ دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔



