ٹیم بہتر پرفارمنس نہیں دکھا سکی ، جب ضرورت نہ رہی تو چلا جاؤنگا; عاقب جاوید
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے پریس کانفرنس میں بھارت کے خلاف میچ میں شکست پر بات کرتے ہوئے ٹیم کی. خراب کارکردگی کی ذمہ داری قبول کر لی،
کہتے ہیں یہ نئ بات نہیں انڈیا سے میگا ایونٹس میں ہمیشہ ہارتے آئے ہیں، ٹیم بہتر پرفارمنس نہیں دکھا سکی جب ضرورت نہ رہی تو چلا جاؤنگا
قومی کرکٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہے کہ کوئی بہانہ نہیں ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیم عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتری، کارکردگی پر کھلاڑی افسردہ ہیں۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہیڈ کوچ عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ٹیم سلیکشن پر تنقید کی جارہی ہے، یہ وہی ٹیم ہے جس نے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کیخلاف پرفارم کیا،
ہم اکثر ٹی 20اورون ڈے کی پرفارمنس کو مکس کردیتے ہیں، طیب طاہر نے زمبابوے ،ساؤتھ افریقہ میں اچھی پرفارمنس دی، صائم ایوب کے ان فٹ ہونے کی وجہ سے خوشدل کو لانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ خوشدل شاہ نے پچھلے ڈیڑھ سال میں بہترین کارکردگی دکھائی، سلیکشن کمیٹی کا کام ہے بہترین متبادل کھلانا ، ہارنے کے بعد کوئی مطمئن نہیں ہو سکتا،سب سفیان مقیم کے نام پر شور مچارہے ہیں،
سفیان مقیم نے ون ڈے کا صرف ایک میچ کھیلا ہے،سعود شکیل کو لانا بہتر آپشن تھا، سعود شکیل نے پاکستان میں ٹیسٹ میچز،ساؤتھ افریقہ میں کارکردگی دکھائی۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جس نے پرفارمنس نہ دی ہو، شاہین ،نسیم اور حارث بہترین فاسٹ باؤلنگ آپشنز ہیں، یہاں تنقید ہوتی ہے بتائیں بابراعظم کے علاوہ کونسی آپشن ہے؟ نسیم شاہ کے 25،حارث کے43اورشاہین آفریدی کے70ون ڈے میچز ہیں،
ہم 25میچز کھیلنے والے کو سینئر کہہ رہے ہیں اور کہتے ہیں پرفارم نہیں کیا، یہ حقیقت ہے کہ ہماری اس طرح کی پرفارمنس نہیں آرہی لیکن یہ بھی حقیقت ہے رنز اسی کو پڑتے ہیں جو باؤلنگ کرے۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ یہاں ایوریج سکور 350 بن رہا ہے، بھارت کے خلاف 280 یا 300 رنز بناتے تو میچ اچھا ہوتا، پاکستان اور بھارت کے میچ میں پریشر ہوتا ہے، یہ ایک سکل ہے،آپ کو پریشر کنٹرول کرنا چاہیے،
ہم بھار ت کے خلاف میچ میں پریشر میں آجاتے ہیں، بھارت سے میچ نہ ہوتا تو آج اتنا افسوس نہ منارہے ہوتے، بھارت سے ہار کے بعد ہمارے جذبات بہت ابھرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے ٹیم تبدیل کردیں، یہ تو نہیں ہوسکتا ساری ٹیم بدل کر انڈر19کی ٹیم کو کھلادیں، جب تک کسی پالیسی کو تسلسل سے لمبے عرصے تک نہیں چلنے دیں گے تو فائدہ نہیں ہوگا، جب آپ ہر وقت بہتری میں لگے رہیں تو مشکل ہوجاتا ہے، بہتری کیلئے تسلسل لازمی ہے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ انجریز کی وجہ سے ٹیم میں نئے کھلاڑی شامل ہوئے، لیکن وہ پریشر برداشت نہیں کر سکے۔ کوچ نے واضح کیا کہ کپتان اور کوچ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اور ٹیم بہترین دستیاب کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر توقعات تھیں، لیکن جب وہ پرفارم نہیں کریں گے تو ٹیم کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ بھارت تجربہ کار ٹیم ہے اور ان کے کھلاڑیوں نے 150 سے زائد میچ کھیلے ہیں،
جبکہ پاکستان کے پاس زیادہ تر نوجوان کھلاڑی تھے جو پریشر میں اچھا نہیں کھیل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ نوکری کے لیے نہیں بیٹھے، جب ضرورت نہیں ہوگی تو خود ہی چلے جائیں گے