ورلڈ کپ 2027 پر نظریں، شاہین کو ٹاپ آرڈر سے بڑی امیدیں
ورلڈ کپ 2027 پر نظریں، شاہین کو ٹاپ آرڈر سے بڑی امیدیں
راولپنڈی – (نواز گوہر) پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاپ آرڈر بلے بازوں کو کارکردگی بہتر بنانے کا دوٹوک پیغام دے دیا ہے، حالانکہ گرین شرٹس نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جاری ہوم ون ڈے ٹرائی سیریز میں لگاتار دوسری فتح حاصل کر لی ہے۔
انگلینڈ کے خلاف 87 رنز کی شاندار فتح کے بعد پوسٹ میچ پریزنٹیشن میں گفتگو کرتے ہوئے شاہین نے ٹیم کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی بڑی تصویر پر توجہ مرکوز رکھی، یعنی آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے لیے ایک ناقابل شکست ٹیم بنانا۔
انگلینڈ کے خلاف مڈل آرڈر نے پاکستان کو 300 رنز سے اوپر پہنچایا، لیکن ٹاپ پر ابتدائی ناکامیاں، جن میں فخر زمان کا گولڈن ڈک اور صائم ایوب اور بابر اعظم کا جلد آؤٹ ہونا شامل ہے، کپتان کے لیے تشویش کا باعث بنی رہیں۔
شاہین نے کہا کہ دباؤ میں شاندار کارکردگی دکھانے پر مڈل اور لوئر آرڈر کو سراہا، خاص طور پر حسن نواز (79)، عرفات منہاس (59) اور فہیم اشرف (39) کی اہم اننگز کا ذکر کیا جنہوں نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
شاہین نے کہا، "حسن نواز، عرفات منہاس اور فہیم اشرف نے جس طرح بیٹنگ کر کے ہمیں واپس کھیل میں لایا وہ واقعی شاندار تھا۔ تاہم، ہمیں ٹاپ آرڈر کا مستقل چلنا بھی ضروری ہے۔
ٹیم کے طور پر ہم نے ان دو میچوں میں بہت سی اچھی چیزیں کی ہیں، لیکن بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے، خاص طور پر جب ہم ورلڈ کپ کی جانب ایک مضبوط ٹیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
"کپتان نے کہا کہ21 سالہ نوجوان عرفات منہاس کی تاریخی آل راؤنڈ کارکردگی کی خصوصی تعریف کی، جنہوں نے نصف سنچری بنانے کے بعد 40 رنز دے کر 6 وکٹیں لے کر پاکستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دونوں شعبوں میں مضبوط ڈیپتھ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے شاہین نے منہاس کو طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے ایک مکمل اثاثہ قرار دیا۔
شاہین نے کہا، "عرفات اور ہمارے فاسٹ باؤلرز کی فارم ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ ہے۔ عرفات ایک زبردست ٹیلنٹ اور ایک مکمل آل راؤنڈر ہے، جو ہماری ٹیم کے توازن کے لیے انتہائی خوش آئند ہے۔
اس نے آج اپنی کلاس ثابت کی، اور امید ہے کہ وہ آئندہ بھی پاکستان کے لیے اسی طرح میچ وننگ پرفارمنس دیتا رہے گا۔”سری لنکا اور انگلینڈ دونوں کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستان اس وقت ٹرائی سیریز ٹیبل پر سرفہرست ہے۔
تاہم، شاہین کی یہ تعمیری تنقید ایک واضح حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے: پاکستان کو ایک بے رحم اور کلینیکل ون ڈے فورس میں تبدیل کرنا جو ابتدائی اوورز سے ہی میچ پر حاوی ہو جائے۔