ہاکی
پی ایچ ایف کی پی ایس بی کو جاری رپورٹ منظر عام پر ،اہم انکشافات
قومی ہاکی ٹیم کو آسٹریلیا میں مشکلات کا سامنا،
پی ایچ ایف کی پی ایس بی کو جاری رپورٹ منظر عام پر ،اہم انکشافات
اسلام آباد: سابقہ پی ایچ ایف منیجمنٹ کی جانب سے پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کو ارسال کی گئی ایک تفصیلی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں FIH پرو لیگ سیزن 7 کے دوران قومی ٹیم کو درپیش انتظامی اور مالی مشکلات کی مکمل تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہاکی کی عالمی تنظیم FIH نے پرو لیگ سیزن 7 کو چار مراحل میں شیڈول کیا تھا۔ پہلا مرحلہ 9 تا 14 دسمبر 2025 کو ارجنٹائن میں منعقد ہونا تھا جبکہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ٹورنامنٹ کے لیے 25 ملین روپے کی منظوری دی گئی اور رقم پی ایس بی کو منتقل کر دی گئی۔ سابقہ پی ایچ ایف فیڈریشن کے مطابق مذکورہ رقم فیڈریشن کو منتقل کرنے کے بجائے پی ایس بی نے خود معاملات سنبھالنے کا فیصلہ کیا، تاہم ہوٹل بکنگ، ایئر ٹکٹس، ویزا پراسیسنگ اور ٹیم کے TA/DA کی بروقت ادائیگی میں تاخیر کے باعث قومی ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ارجنٹائن مرحلے کے لیے بروقت ٹکٹوں کی بکنگ نہ ہونے کے باعث ٹیم کی روانگی میں تاخیر ہوئی، FIH کی تجویز کردہ ہوٹل دستیاب نہ رہا اور ویزوں کے اجراء میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ مزید برآں کھلاڑیوں کو یومیہ الاؤنس کی ادائیگی نہ ہونے پر اسلام آباد ٹریننگ کیمپ کے دوران احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔ دوسرا مرحلہ 2 فروری سے 15 فروری 2026 تک آسٹریلیا میں شیڈول تھا۔ پی ایچ ایف کے مطابق آسٹریلوی ویزا، ہوٹل بکنگ اور ٹکٹوں کے معاملات کے لیے متعدد بار یاد دہانیاں کروائی گئیں، تاہم ہوٹل کو مقررہ مدت میں پیشگی ادائیگی نہ کی جا سکی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ٹیم کی روانگی سے صرف دو دن قبل 49,280 امریکی ڈالر نقد فراہم کیے گئے جبکہ ہوٹل کی ڈیڈ لائن گزر چکی تھی۔ آسٹریلیا پہنچنے پر ہوٹل نے طے شدہ نرخوں پر رہائش دینے سے انکار کر دیا اور دگنے نرخوں کا مطالبہ کیا، جس کے باعث ٹیم کو متبادل رہائش کا انتظام کرنا پڑا۔ اس صورتحال میں ٹیم منیجر کو ذاتی کوششوں سے مقامی سطح پر ادائیگی کا بندوبست کرنا پڑا۔ سابقہ پی ایچ ایف فیڈریشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ویزا فیس، ایئر ٹکٹ، ہوٹل کی پیشگی ادائیگی اور یومیہ الاؤنس کے تمام فنڈز پی ایس بی کے پاس موجود تھے، تاہم بروقت منتقلی نہ ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ رپورٹ میں پرو لیگ کے چاروں مراحل ارجنٹائن، آسٹریلیا، بیلجیئم اور لندن کا مکمل شیڈول اور پی ایس بی کے ساتھ ہونے والی تاریخ وار خط و کتابت کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ذمہ دار کوئی بھی ہو، لیکن اس پوری صورتحال کے نتیجے میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر قومی ٹیم کو رہائش اور ادائیگی جیسے معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے نہ صرف کھلاڑیوں کو سبکی اٹھانا پڑی بلکہ پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔