مضامین

ڈوپنگ قوانین کی پاسداری۔۔۔ پاکستان کا عالمی وقار بحال

تحریر: کھیل دوست، شاہد الحق

ڈوپنگ قوانین کی پاسداری۔۔۔ پاکستان کا عالمی وقار بحال

تحریر: کھیل دوست، شاہد الحق

آخرکار وہ گھڑی ٹل گئی جس نے پاکستان کی کھیلوں کی دنیا کو ایک گہری تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کی اُس واچ لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کی خبر نہ صرف ایک اطمینان بخش لمحہ ہے بلکہ ہمارے کھیلوں کے مستقبل کے لیے ایک نئی صبح کی نوید بھی ہے۔ یہ وہ لسٹ ہے جس میں اُن ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو واڈا کے قوانین کی پاسداری نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ ستمبر 2024 میں واڈا نے پاکستان کی اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن (ADOP) کو حکومتی مداخلت اور عالمی معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے واچ لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ سخت عندیہ دیا گیا تھا کہ اگر فروری 2025 سے پہلے اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستانی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کھیلوں میں اپنے قومی پرچم کے ساتھ شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ صورتحال پاکستان کے کھیلوں کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہ تھی۔ حالانکہ 2024 میں ADOP نے شاندار کارکردگی دکھائی، کئی کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کیے اور شفافیت و اخلاقی اقدار کو اجاگر کیا، لیکن بدقسمتی سے چند خودساختہ ’’افلاطونی مشیروں‘‘ کی وجہ سے حکومتی مداخلت شروع ہوگئی جس سے ادارے کی خودمختاری خطرے میں پڑ گئی۔

اداروں کو خراج تحسین ; اس موقع پر پاکستان اسپورٹس بورڈ اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے جنہوں نے حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے بروقت اور مؤثر فیصلے کیے۔ ان کے اقدامات نے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف اور وژن درست ہو تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔

ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ اور سیکریٹری اسپورٹس نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ واڈا کے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پرانی کمیٹیوں کو تحلیل کر دیا گیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ اینٹی ڈوپنگ ادارہ ایک مکمل آزاد اور خودمختار بورڈ ہوگا۔ اسی تناظر میں ADOP کا نام تبدیل کر کے ’’پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ (PADB)‘‘ رکھ دیا گیا ہے تاکہ ادارے کو نئی شناخت اور مکمل خودمختاری حاصل ہو۔

ڈاکٹر قرۃ العین کا کردار ;  اس موقع پر ایک اہم اور قابلِ قدر نام ڈاکٹر قرۃ العین کا بھی ہے، جنہوں نے واڈا کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھا اور آئینی ترامیم کی تدوین میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ خدمات پاکستان کے عالمی وقار کی بحالی میں سنگِ میل ثابت ہوئیں۔

اگلا مرحلہ — RADOCA رکنیت کی بحالی ; اگرچہ واچ لسٹ سے نکلنا ایک بڑی کامیابی ہے، مگر سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اگلا بڑا قدم یہ ہے کہ پاکستان ریجنل اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن فار سینٹرل ایشیا (RADOCA) کی رکنیت بحال کرے، جس سے پاکستان کی رکنیت رواں سال کے اوائل میں معطل کر دی گئی تھی۔ اس رکنیت کی بحالی پاکستان کو خطے اور عالمی سطح پر مکمل انضمام فراہم کرے گی اور PADB کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنائے گی۔

فیصلہ کن مرحلہ ; باوثوق ذرائع کے مطابق PADB کے سربراہ کے لیے تین نام (ق، خ، س) شارٹ لسٹ ہو چکے ہیں۔ حتمی فیصلہ وزیرِاعظم کریں گے۔ اگر یہ فیصلہ واقعی میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا تو یہ پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا سب سے شفاف قدم ہوگا۔ لیکن اگر روایتی سفارشی کلچر غالب آگیا تو یہ قیمتی موقع ضائع ہو جائے گا اور پاکستان دوبارہ واچ لسٹ میں جا سکتا ہے۔

آگے کا راستہ ; یہ لمحہ پاکستان کے کھیلوں کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہے۔ شفافیت، میرٹ اور واڈا قوانین کی مکمل پاسداری سے نہ صرف کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بھی بلند ہوگا۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اصول پسندی اور شفافیت کی اس روایت کو آگے بڑھائیں اور ممنوعہ ادویات کے استعمال کو جڑ سے ختم کریں تاکہ ہمارے کھلاڑی ہر میدان میں سر اٹھا کر کھیل سکیں۔

شاہد الحق ; اسپورٹس فلانتھراپسٹ | سابق نیشنل پلیئر | اسپورٹس رائٹر و وی لاگر

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!