کرکٹ

بھارتی شکست کے باوجود کولکتہ پچ کلیئر؟ آئی سی سی ریٹنگ نے سب کو حیران کر دیا

بھارتی شکست کے باوجود کولکتہ پچ کلیئر؟ آئی سی سی ریٹنگ نے سب کو حیران کر دیا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے کولکتہ کے تاریخی اسٹیڈیم ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کی پچ سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا ہے۔

گزشتہ ماہ کھیلے گئے اس میچ میں جہاں جنوبی افریقا نے میزبان بھارت کو محض 3 دن میں شکست دے کر کرکٹ دنیا کو حیران کر دیا تھا، وہیں میچ کے فوراً بعد پچ کے معیار پر بھی شدید سوالات اٹھائے گئے تھے،

تاہم اب آئی سی سی نے تمام تر بحث و تنقید کے باوجود اس پچ کو اطمینان بخش قرار دے کر ایڈن گارڈنز کو کسی ممکنہ پابندی سے محفوظ کر لیا ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق میچ ریفری رچی رچرڈسن نے اپنی رپورٹ میں کولکتہ ٹیسٹ کے لیے تیار کی گئی پچ کو فور ٹئیر پچ ریٹنگ سسٹم کے تحت سیٹسفیکٹری یعنی اطمینان بخش کا درجہ دیا۔

اس فیصلے کے بعد نہ تو اس پچ کو ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا اور نہ ہی میزبان اسٹیڈیم کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کرکٹ حلقوں میں اس فیصلے کو غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ میچ کا اختتام غیر معمولی طور پر تیسرے ہی دن ہو گیا تھا۔

کولکتہ میں کھیلا گیا یہ ٹیسٹ میچ بھارت کے لیے کئی حوالوں سے مایوس کن ثابت ہوا۔ جنوبی افریقا نے ابتدا ہی سے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور بھارتی بیٹنگ لائن کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔

پچ سے تیز گیند بازوں کو غیر معمولی مدد ملتی رہی، جس کے باعث میچ تیزی سے نتیجے کی طرف بڑھا۔ یہی وجہ تھی کہ سابق کھلاڑیوں اور مبصرین نے اس پچ کو حد سے زیادہ بولنگ فرینڈلی قرار دیتے ہوئے اس پر سوالات اٹھائے تھے۔

آئی سی سی کا فور ٹئیر پچ ریٹنگ سسٹم دنیا بھر میں ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت سب سے اوپر بہت اچھی، اس کے بعد اطمینان بخش،

پھر غیر اطمینان بخش اور سب سے نچلے درجے پر ان فٹ پچ کو رکھا جاتا ہے۔ اگر کسی پچ کو غیر اطمینان بخش یا ان فٹ قرار دیا جائے تو متعلقہ اسٹیڈیم کو ڈی میرٹ پوائنٹس اور ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں ہفتے آسٹریلیا کے تاریخی میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے ایشز سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میچ کی پچ کو آئی سی سی نے غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا ہے۔

باکسنگ ڈے ٹیسٹ صرف دو دن میں ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد آئی سی سی نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایم سی جی کی پچ کو ناقص معیار کا حامل قرار دیا۔ اس تقابل کے بعد کولکتہ ٹیسٹ کی پچ کو دی گئی اطمینان بخش ریٹنگ مزید بحث کا باعث بن گئی ہے۔

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق کولکتہ اور میلبرن ٹیسٹ کے فیصلوں میں فرق نے آئی سی سی کے پچ ریٹنگ سسٹم پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر میچ کا غیر معمولی طور پر جلد ختم ہونا معیار جانچنے کا پیمانہ ہے تو کولکتہ ٹیسٹ بھی اسی زمرے میں آتا ہے، تاہم آئی سی سی کے فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ فی الحال ایڈن گارڈنز کو کسی قسم کی وارننگ یا سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

کولکتہ ٹیسٹ کی متنازع پچ پر آئی سی سی کا یہ فیصلہ کرکٹ دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے، جہاں شائقین اور ماہرین اب پچ کے معیار، غیر جانبداری اور ریٹنگ سسٹم کی شفافیت پر کھل کر گفتگو کر رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!