تنازع کے بعد کیمپ چھوڑنے والے کرسٹیانو رونالڈو کا تہلکہ خیز بیان، ریٹائرمنٹ سے انکار
تنازع کے بعد کیمپ چھوڑنے والے کرسٹیانو رونالڈو کا تہلکہ خیز بیان، ریٹائرمنٹ سے انکار
پرتگال کا کیمپ چھوڑا، تنازع کھڑا ہوا اور ریٹائرمنٹ کی خبریں گردش کرنے لگیں، لیکن کرسٹیانو رونالڈو نے سب قیاس آرائیوں کا خاتمہ کردیا،اسٹار فٹبالر نے واضح کردیا کہ وہ ابھی پرتگال کو الوداع نہیں کہہ رہے۔
پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو قومی ٹیم کے کیمپ سے اچانک روانگی کے معاملے پر کھل کر بول پڑے ہیں۔
رونالڈو نے انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فٹ ہونے کی صورت میں پرتگال کی نمائندگی کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے،
تاہم انہوں نے کیمپ چھوڑنے پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ممکنہ سزا قبول کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
کرسٹیانو رونالڈو نے تقریباً 2 ہزار الفاظ پر مشتمل اپنے تفصیلی بیان میں قومی ٹیم کے کیمپ چھوڑنے کی وجوہات بھی بیان کی ہیں اور ہیڈ کوچ جارج جیسس پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا ہے۔
رونالڈو کے مطابق ناروے کے خلاف میچ سے قبل کوچ جارج جیسس نے انہیں بتایا تھا کہ وہ تقریباً 30 منٹ میدان میں کھیلیں گے۔ تاہم میچ کے دوران وہ دوسرے ہاف کے آغاز سے مسلسل وارم اپ کرتے رہے لیکن انہیں میدان میں نہیں اتارا گیا۔
اسٹار فٹبالر کا کہنا ہے کہ وقت گزرتا رہا لیکن انہیں کھیلنے کا موقع نہیں ملا، جس پر انہیں محسوس ہوا کہ کوچ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ بعد میں جارج جیسس سے ملاقات ہوئی، جس میں معاملے کی وضاحت کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا،
تاہم کوچ کی پریس کانفرنس میں سامنے آنے والی گفتگو نجی ملاقات میں طے ہونے والی باتوں سے مختلف تھی۔رونالڈو نے کہا کہ یہ دوسری مرتبہ تھا جب انہیں لگا کہ کوچ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا،
جس کے بعد انہوں نے مزید کسی وعدے کے ٹوٹنے کا انتظار کیے بغیر پرتگال کا تربیتی کیمپ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔تاہم رونالڈو نے اعتراف کیا کہ اختلافات کے باوجود انہیں ٹیم کا کیمپ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔
انہوں نے پرتگالی عوام، ٹیم کے ساتھیوں اور ان شائقین سے بھی معذرت کی جو انہیں کھیلتا دیکھنے کے لیے دور سے آئے تھے۔رونالڈو نے واضح کیا کہ پرتگالی فٹبال فیڈریشن کی جانب سے کیمپ چھوڑنے پر جو بھی سزا دی جائے گی،
وہ اسے قبول کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اقدامات کے نتائج ضرور ہونے چاہئیں اور سزا میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جانی چاہیے۔قومی ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے رونالڈو نے کہا کہ اگر وہ جسمانی طور پر فٹ رہے،
اپنے کلب النصر کے لیے کھیلتے رہے اور ممکنہ معطلی کی سزا مکمل کرلی تو وہ پرتگال کی نمائندگی کیلئے بدستور دستیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ کی طرح قومی ٹیم کے لیے کھیلنے اور اسے کامیابیاں دلانے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
رونالڈو نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا بین الاقوامی کیریئر محض ایک رسمی الوداعی میچ پر ختم نہیں ہوگا، تاہم وقت آنے پر پرتگالی عوام کے ساتھ ایک یا ایک سے زیادہ الوداعی میچ ضرور ہوں گے۔
رونالڈو نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے تقریباً 25 سالہ کیریئر کے دوران کبھی کسی کوچ کے تکنیکی یا حکمت عملی سے متعلق فیصلوں میں مداخلت نہیں کی۔ ان کے مطابق وہ کوچز کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں،
تاہم جب کوئی وعدہ پورا نہ ہو تو ان کے لیے صورتحال مشکل ہوجاتی ہے۔اسٹار فٹبالر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ والد کی وفات کی خبر ملنے کے باوجود وہ ایک موقع پر پرتگال کے کیمپ میں موجود رہے اور اگلے روز ہونے والے میچ تک ٹیم کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس وقت ملک کے لیے وہ کیا جو شاید کسی کلب کے لیے نہ کرتے۔رونالڈو نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے ورلڈ کپ کے بعد بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان تحریر کرلیا تھا،
تاہم پرتگالی فٹبال فیڈریشن کے صدر پیڈرو پروینسا نے انہیں اپنا فیصلہ بدلنے پر آمادہ کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اسی دوران پروینسا نے ان سے النصر کے سابق کوچ جارج جیسس کو پرتگال کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کے حوالے سے بھی رائے لی تھی۔
رونالڈو کے مطابق انہوں نے اس تقرری کو درست فیصلہ قرار دیا تھا اور جیسس کے کوچ بننے پر وہ حقیقی طور پر خوش تھے۔دوسری جانب جارج جیسس نے رونالڈو کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ دونوں کے درمیان کھیلنے کے حوالے سے اس نوعیت کا کوئی معاہدہ ہوا تھا۔
تاہم کوچ کا کہنا ہے کہ رونالڈو کے لیے قومی ٹیم کے دروازے بدستور کھلے ہیں۔کرسٹیانو رونالڈو پرتگال کی جانب سے 234 میچز میں 146 گول کرچکے ہیں اور دونوں شعبوں میں مردوں کے بین الاقوامی فٹبال کے ریکارڈ ہولڈر ہیں۔
وہ پرتگال کو 2016 کی یورپی چیمپئن شپ اور دو مرتبہ نیشنز لیگ جتوانے میں بھی اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔
رونالڈو نے ریٹائرمنٹ کی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا کہ پرتگال کے لیے ان کی انٹرنیشنل کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم اب نظریں اس بات پر ہوں گی کہ کیمپ چھوڑنے پر ممکنہ سزا اور جارج جیسس کے ساتھ اختلاف کے بعد وہ دوبارہ قومی ٹیم کے ساتھ کب اور کس انداز میں میدان میں اترتے ہیں۔