کرکٹ

صاحبزادہ فرحان کے انتخاب کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

صاحبزادہ فرحان کے انتخاب کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

لاہور: قومی ٹیم کے اوپنر صاحبزادہ فرحان کی نیپال پریمیئر لیگ سے اچانک واپسی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

ذرائع اور نیپالی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نیپال پریمیئر لیگ (NPL) کی فرنچائزز سے ہر پاکستانی کھلاڑی کے این او سی کے لیے اضافی 25 ہزار امریکی ڈالر طلب کیے تھے۔

صاحبزادہ فرحان نیپال پہنچ چکے تھے اور کرنالی یاکس کی نمائندگی کرنے والے تھے، تاہم عین لیگ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل پی سی بی نے ان سمیت 7 کھلاڑیوں کے این او سی روک لیے۔ان میں حیدر علی، حنین شاہ، حسین طلعت، افتخار احمد، حسن علی اور اسامہ میر بھی شامل ہیں۔

کرنالی یاکس کے ڈائریکٹر گرہیندر گھمیرے نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی سی بی کی جانب سے آخری وقت میں اضافی رقم کا مطالبہ کیا گیا، 

جو کہ پہلے سے جاری شدہ این او سی کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ "نیپالی کرکٹ ابھی ترقی کے مراحل میں ہے، اس موقع پر اضافی رقم کا مطالبہ مایوس کن ہے۔"

ذرائع کے مطابق فرحان کی ٹیم کرنالی یاکس نے مبینہ طور پر آدھی رقم دینے کی پیشکش بھی کی، لیکن پی سی بی نے اسے مسترد کرتے ہوئے فرحان کو قومی ڈیوٹی کے لیے واپس بلا لیا۔

صاحبزادہ فرحان اب نیپال سے واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ وہ آج سری لنکا کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں فخر زمان کے ساتھ اننگز کا آغاز کریں گے۔

کرنالی یاکس انتظامیہ کو امید ہے کہ وہ 31 اکتوبر کو قومی میچ ختم ہونے کے بعد دوبارہ NPL میں شامل ہو جائیں گے۔

اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کیا ایک بورڈ کو اپنے ہی کھلاڑیوں کے این او سی کے لیے اس طرح آخری وقت میں رقم مانگنی چاہیے؟ 

اس پر پی سی بی کو باضابطہ وضاحت دینی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

Related Articles


Back to top button