ہاکی

نوجوان ہاکی ٹیلنٹ کی تلاش، پی ایچ ایف کی اسکولز ہاکی لیگ کا شیڈول جاری

 ہاکی کا سنہری دور واپس لانے کا مشن، چاروں صوبوں میں اسکولز ہاکی لیگ کا آغاز

 اسلام آباد ; پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے قومی کھیل کو نچلی سطح پر دوبارہ فروغ دینے اور قومی ٹیموں کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کی نرسری تیار کرنے کے مقصد سے ملک گیر "اسکولز ہاکی لیگ" (SHL) کے آغاز کے لیے اسلام آباد میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔

اجلاس کی صدارت سیکرٹری انٹر پرووینشل کوآرڈینیشن کمیٹی (IPCC) اور صدر پی ایچ ایف محی الدین وانی نے کی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں، 

آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) کے اسکول ایجوکیشن اور اسپورٹس ڈیپارٹمنٹس کے نمائندگان نے شرکت کی۔ 

صدر پی ایچ ایف نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اسکولز ہاکی لیگ کے انعقاد کو ملی فریضہ سمجھ کر سونپی گئی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے ماضی کے شاندار ہاکی دور اور اسے ملک کا قومی کھیل ہونے کے ناطے اس کے مقام کو بھی یاد کیا۔

لیگ کے خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے پی ایچ ایف کے فوکل پرسن احتشام انور نے بتایا کہ یہ لیگ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے تحت اپنے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کے ساتھ کام کرے گی، جبکہ اس کی رہنمائی صدرِ پی ایچ ایف کی زیرِ صدارت ایک اسٹیئرنگ کمیٹی کرے گی۔

اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تحصیل، ضلعی اور ڈویژنل سطح کے مقابلے پورے پاکستان میں بیک وقت 15 نومبر سے شروع ہوں گے۔

صوبائی رائونڈ جنوری میں کھیلا جائے گا۔نیشنل رائونڈ فروری میں منعقد ہوگا۔

اس لیگ کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم تک رسائی کا واضح راستہ ملے گا،سرفہرست تین پوزیشنز حاصل کرنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں کو بالترتیب ایک سال کے لیے 10,000 روپے، 7,500 روپے اور 5,000 روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔

فاتح ٹیم اور منتخب کھلاڑیوں کو بین الاقوامی دورے کروائے جائیں گے۔ 

لیگ کی معاونت کرنے والے اسکول ہیڈز اور اسپورٹس اساتذہ کو خصوصی اعزازات سے نوازا جائے گا۔ ہر سال 100 لڑکوں اور 100 لڑکیوں کو سمر کیمپس کے لیے منتخب کیا جائے گا 

جہاں انہیں کوچنگ، فٹنس ٹریننگ کے ساتھ ساتھ تعلیم کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی تاکہ ان کی پڑھائی کا حرج نہ ہو۔

تمام صوبائی محکموں اور وفاقی اداروں نے پی ایچ ایف کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے عہد کیا کہ وہ اسکولز ہاکی لیگ کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے اسپورٹس کیلنڈرز اور سرگرمیوں کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کریں گے۔

Related Articles


Back to top button