چیئرمین پی سی بی نے نئی مینز سلیکشن کمیٹی کا تقرر کر دیا۔

 چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے قومی کرکٹ ٹیم کی 7رکنی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کردیا۔

نئی سلیکشن کمیٹی کا کوئی سربراہ نہیں ہوگا،

لاہور 24 مارچ 2024۔

پی سی بی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی 7 ارکان پر مشتمل ہوگی، سلیکشن کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے تمام ممبرز کے پاس برابر اختیارات ہوں گے، تمام کمیٹی ممبرز مل کر فیصلے کریں گے، چیئرمین کی ٹیم سلیکشن میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ وہاب ریاض،محمد یوسف،عبدالرزاق اور اسد شفیق کو سلیکشن کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے، کپتان اور ہیڈ کوچ بھی سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوں گے، ڈیٹا اینالسٹ کو بھی سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ محمد یوسف انڈر 19 ٹیم کے بھی ہیڈ کوچ رہیں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ حارث رؤف کا سینٹرل کنٹریکٹ بحال کردیا ہے، کنٹریکٹ کے مطابق لیگز کیلئے این او سی پالیسی ہوگی، کسی کھلاڑی کے حوالے سے فیورٹ ازم نہیں ہو گا، عماد وسیم کیساتھ ون پوائنٹ ایجنڈے پر بات ہوئی ،ان کو صرف کہا گیا ہے واپس آجائیں، سب کا یہی خیال ہے کہ ورلڈ کپ کیلئے ٹیم مضبوط ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوچز پر کام ہورہا ہے، ملکی اور غیر ملکی کوچز کا امتزاج ہوگا،ڈریم ٹیم بنائیں گے، ایک کوچ سے بات چل رہی تھی،میڈیا نے ہائی لائٹ کیا وہ بھاگ گیا، بورڈ میں پیراشوٹرز کی گنجائش نہیں ہے، کوچز کا ایک پورا پینل بن رہا ہے۔

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا کہ ایسے اقدامات کریں گے جن کا اثر 5سال بعد نظر آئے گا، کرکٹ بورڈ کا پیسہ کرکٹ کی بہتری پر لگاؤں گا، ہمارے پاس جادو کا چراغ نہیں لیکن ٹیم کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے، ہم وویمن لیگ بھی کروانا چاہتے ہیں۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کوئی لابنگ نہیں ہوگی میرٹ پر کام ہو گا، کپتان کے حوالے سے بھی کام ہو رہا ہے، شاہین آفریدی کپتان رہیں گے یا نیا کپتان آئے گا اس حوالے سے مشاورت کے بعد فیصلہ ہو گا۔

پی سی بی چیئرمین نے مزید کہا کہ چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہو گی اس کیلئے اقدامات کررہے ہیں، ایونٹ کے انتظامات دیکھنے کیلئے آئی سی سی کی ٹیم آج پاکستان پہنچ رہی ہے۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ میں نے چار سابق ٹیسٹ کھلاڑیوں پر مشتمل سات رکنی سلیکشن کمیٹی کو مینڈیٹ دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے قومی ٹیموں کا انتخاب کرے۔

سلیکشن کمیٹی کے کام میں مداخلت نہیں کروں گا۔ یہ تمام لوگ تجربہ کار اور پیشہ ور ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنا کام لگن اور ایمانداری کے ساتھ کریں گے۔”

سلیکشن کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں ہوگا جس میں ہر رکن کو مساوی اختیارات حاصل ہوں گے اور یہی کمیٹی قومی سلیکشن کے معاملات کے علاوہ انڈر 19 اور اے ٹیم کے انتخاب کی بھی ذمہ دار ہوگی۔

error: Content is protected !!