کرکٹ
لاہور قلندرز کی ملکیت کا تنازع: فواد رانا نے بھائیوں کے خلاف تاریخی کیس جیت لیا
لاہور قلندرز کے مالکانہ حقوق کا تنازع:
ثالثی عدالت کا عاطف رانا کو 2.3 ارب روپے ادائیگی یا کنٹرول واپس کرنے کا حکم
پاکستان سپر لیگ کی مقبول ترین فرنچائزز میں سے ایک، لاہور قلندرز کے مالکانہ حقوق سے متعلق ایک سنگین خاندانی تنازع منظر عام پر آیا ہے، جس میں ثالثی عدالت نے موجودہ انتظامیہ کے خلاف بڑا فیصلہ سنادیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ ثالث، جسٹس (ر) مقبول باقر نے فیصلہ دیا ہے کہ موجودہ مالکان عاطف رانا اور سمین رانا کو یا تو فرنچائز کا انتظامی کنٹرول اپنے بڑے بھائی فواد رانا کی کمپنی قطر لبریکنٹس (QALCO) کو واپس کرنا ہوگا، یا پھر ان کے حصص کی قیمت کے طور پر 2.3 ارب روپے ادا کرنے ہوں گے۔ عدالت نے اس حکم پر عملدرآمد کے لیے 45 دن کی مہلت دی ہے۔ تنازع کا پس منظر دستاویزات کے مطابق، فواد رانا نے 2015 میں 26 ملین ڈالر کے عوض اپنی قطری کمپنی 'کیولکو' کے ذریعے لاہور قلندرز کے حقوق حاصل کیے تھے۔ پاکستان میں معاملات چلانے کے لیے 'کوثر رانا ریسورسز' (KRR) نامی کمپنی بنائی گئی، جس میں فواد رانا کی کمپنی 51 فیصد حصص کے ساتھ اکثریتی مالک تھی۔ تاہم، 2018 اور 2020 کے دوران مختلف معاہدوں کے ذریعے حصص کی منتقلی ہوئی، جس کے نتیجے میں عاطف رانا مکمل مالک بن گئے، جبکہ فواد رانا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ منتقلی بغیر کسی ادائیگی کے اور دھوکہ دہی پر مبنی تھی۔ فیصلے کے اہم نکات عدالت نے جرح اور شواہد کی روشنی میں قرار دیا کہ: عاطف رانا اور ان کی کمپنی کو کیولکو کو 2.3 ارب روپے بمع سود ادا کرنے ہوں گے۔ رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں کیولکو کے 51 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول فوری بحال کیا جائے۔ پراسرار 'مسٹر نیازی' نامی شخص کو فروخت کیے گئے 30 فیصد حصص سے حاصل ہونے والے منافع کا حساب بھی پیش کیا جائے۔ ردِعمل اور مستقبل عاطف رانا نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قانونی ٹیم تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ دوسری جانب، کیولکو کے وکلا نے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کو خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ جب تک عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا، موجودہ انتظامیہ کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ نہ کیا جائے۔ اگرچہ عاطف اور سمین رانا اس وقت اپیل کی وجہ سے کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، تاہم اس فیصلے نے لاہور قلندرز کے مستقبل اور اس کے پیچھے چھپے مہنگے خاندانی تنازع کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔