Tag: cricket news

  • گوادر کرکٹ اکیڈمی نے اپنی نئی کٹ متعارف کروا دی

    گوادر کرکٹ اکیڈمی نے اپنی نئی کٹ متعارف کروا دی

    گوادر کرکٹ اکیڈمی نے اپنی نئی کٹ متعارف کروادی

    حق دو تحریک کے بانی ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر کرکٹ اکیڈمی نئی کٹ کی رونمائی کی

    مولانا ہدایت الرحمان نے نوجوان کھلاڑیوں کیلئے بیس جوڑے پروفیشنل کرکٹ شوز دینے کا اعلان کیا

    لاہور(سپورٹس لنک رپورٹ) گوادر کرکٹ اکیڈمی نے اپنی نئی کٹ متعارف کروادی۔شہید یاسر سنی کانفرنس ہال میں منعقد ہونے والی تقریب کے مہمان خصوصی حق دو تحریک کے بانی ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان تھے

    ان کے ہمراہ اکرم فدا (ڈسٹرکٹ چیئرمین حق دو تحریک و کونسلر) اور نوجوان سیاسی رہنما، کونسلر و ممبر کور کمیٹی حق دو تحریک نوید بلوچ بھی شریک تھے۔

    گوادر کرکٹ اکیڈمی آمد پر حنیف حسین ، ایاز اسد خان اور شریف حسین نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیاجبکہ مولانا ہدایت الرحمان نے نوجوان کھلاڑیوں سے نہایت پرجوش انداز میں مصافحہ کیا۔

    معزز مہمان خصوصی نے گوادر کرکٹ اکیڈمی کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے قیمتی تاثرات بھی قلمبند کیے۔ تقریب میں نوجوان کھلاڑیوں سمیت علاقے کی سپورٹس لورز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    نئی سپورٹس کٹ ملک برادرزانجینئرنگ سروسس کراچی کی جانب سے گوادر کے نوجوان کرکٹرز کو فراہم کی گئیں۔ گوادر کرکٹ اکیڈمی کی نئی کٹ کی رونمائی مہمان خصوصی حق دو تحریک کے بانی ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان نے کی۔

    گوادر کرکٹ اکیڈمی کے صدر حنیف حسین گوادر کرکٹ اکیڈمی کے قیام، اغراض و مقاصد، اب تک کی نمایاں کامیابیوں اور چیئرمین اکیڈمی حاجی عبدالحمید رشید کی بے لوث اور انتھک خدمات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    حنیف حسین نے شہید یاسر سنی کی گوادرمیں کرکٹ کے کھیل کو فروغ دینے کیلئے بے شمار قربانیوں بارے بھی آگاہ کیااور شہید یاسر سنی کی بے لوث خدمات کو خراج تحسین پیش کیا

    اور ان کی بے پناہ خدمات کے اعتراف میں گوادر کرکٹ اکیڈمی کے کانفرنس اینڈمیوزیم ہال کو شہید یاسر سنی کے نام سے منسوب کیا۔

    مہمانِ خصوصی مولانا ہدایت الرحمان نے اپنے خطاب میں گراس روٹ لیول پر کرکٹ کے فروغ میں گوادر کرکٹ اکیڈمی کے کردار کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے علاقے کے نوجوانوں کیلئے ایک مثالی اور رول ماڈل ادارہ قرار دیا۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ یہ بلوچستان کی واحد کرکٹ اکیڈمی ہے جو مکمل طور پر اپنی مدد آپ کے تحت حاجی عبدالحمید رشید، حاجی حنیف اور ان کے مخلص رفقاءکی کاوشوں سے چلائی جا رہی ہے

    ان افراد نے ذاتی وسائل سے لاکھوں روپے خرچ کر کے اس اکیڈمی کو پاکستان صف اول کی کرکٹ اکیڈمیوں میں شامل کر دیا ہے۔اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر کرکٹ اکیڈمی کے کھلاڑیوں کیلئے بیس جوڑے پروفیشنل کرکٹ شوز دینے کا اعلان بھی کیا ۔

    واضح رہے کہ گوادر کرکٹ اکیڈمی ایک مثالی رضاکارانہ ادارہ ہے جو مستحق کھلاڑیوں کو بغیر کسی فیس کے سہولیات فراہم کر رہا ہے، جو نوجوان نسل کی بہترین تربیت اور آبیاری کا عملی ثبوت ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ محدود وسائل اور سہولیات کے فقدان کے باوجود گوادر کے نوجوان جس جذبے، محنت اور مستقل مزاجی سے کھیل کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں وہ واقعی قابل فخر ہے۔

     

  • پہلا ٹی ٹوئنٹی؛ پاکستان نے آسٹریلیا کو باآسانی شکست دے دی

    پہلا ٹی ٹوئنٹی؛ پاکستان نے آسٹریلیا کو باآسانی شکست دے دی

     پاکستان نے آسٹریلیا کو ٹی ٹوئنٹی میں 22 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کی۔

    لاہور: 3 میچز کی سیریز کےقذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے میچ میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلےبیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ صائم ایوب 40 رنز کے ساتھ نمایاں بیٹر رہے۔ جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں پر 146 رنز بناسکی۔

    آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کا آغاز اچھا نہ تھا، میچ کی پہلی ہی گیند پر صاحبزادہ فرحان صفر پر آؤٹ ہوگئے۔ایک وکٹ گرنے کے بعد صائم ایوب اور کپتان سلمان علی آغا نے ذمہ درانہ بیٹنگ کی اور دلکش شاٹس کھیلے۔

    تاہم 74 کے مجموعی اسکور پر صائم ایوب 40 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔اس کے بعد سلمان علی آغا 39، بابر اعظم 24، فخر زمان 10، عثمان خان 18، شاداب ایک اور شاہین صفر پر آؤٹ ہوئے۔ محمد نواز 15 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔یوں پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز اسکور کیے۔

    آسٹریلیا کے ایڈم زمپا نے 24 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ بارلیٹ اور بیئرڈمین نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    پاکستان کے 169 رنز کے ہدف کے جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم زیادہ کھل کر نہیں کھیل سکی اور 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 146 رنز بناسکی۔آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 36 اور بارلیٹ نے 34 رنز بنائے۔

    پاکستان کی جانب سے صائم ایوب اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ شاداب خان اور محمد نواز نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ گرین شرٹس کو 3 میچز کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

    پاکستان کی پلیئنگ الیون ;  اس میچ میں پاکستان کی پلیئنگ الیون میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان علی آغا (کپتان)، بابر اعظم، فخر زمان، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، شاہین شاہ آفریدی، سلمان مرزا اور ابرار احمد شامل تھے۔

    آسٹریلیا کی پلیئنگ الیون ; اس میچ میں آسٹریلیا کی پلیئنگ الیون ٹریوس ہیڈ (کپتان)، میتھیو شارٹ، کیمرون گرین، میٹ رینشا، کوپر کونولی، مچل اوون، جوش فلپ، جیک ایڈورڈز، زیویئر بارٹلیٹ، ایڈم زمپا اور ماہلی بیئرڈمین پر مشتمل تھی۔

  • ڈان بریڈمین کی کیپ 4لاکھ 60ہزار ڈالر میں فروخت

    ڈان بریڈمین کی کیپ 4لاکھ 60ہزار ڈالر میں فروخت

    ڈان بریڈمین کی کیپ 4لاکھ 60ہزار ڈالر میں فروخت

    سڈنی ; آسٹریلوی کرکٹ لیجنڈ سر ڈونلڈ بریڈمین کی تاریخی بیگی گرین کیپ ریکارڈ قیمت میں نیلام ہوگئی۔ ڈان بریڈمین کی یہ تاریخی بیگی گرین کیپ آسٹریلیا کے گولڈ کوسٹ میں ہونے والی نیلامی میں 4 لاکھ 60 ہزار آسٹریلوی ڈالر میں فروخت ہوگئی۔

    اس نایاب بیگی گرین کیپ کو ایک گمنام خریدار نے حاصل کیا ہے جس کے حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ بریڈمین نے یہ کیپ 1947-48 میں بھارت کے خلاف اپنی آخری ہوم سیریز کے دوران پہنی تھی۔

    بعد ازاں انہوں نے یہ کیپ بھارتی ٹیم کے اوپننگ بولر رنگا سوہنی کو تحفے میں دے دی تھی۔سوہنی کے اہلِ خانہ نے اس تاریخی ورثے کو تقریباً 75 برس تک انتہائی رازداری کے ساتھ محفوظ رکھا ۔

    لائیڈز آکشنز کے چیف آپریٹنگ آفیسر لی ہیمز نے اس کیپ کو کرکٹ کی دنیا کا مقدس خزانہ قرار دیا۔ان کے مطابق، خاندان کے افراد کو بھی 16 سال کی عمر کے بعد صرف چند منٹ کے لیے اسے دیکھنے کی اجازت ہوتی تھی۔

    کیپ کے اندر ڈی جی بریڈمین اور ‘ایس ڈبلیو سوہنی’ کے نام درج ہیں جبکہ آسٹریلوی نشان کے نیچے 1947-48 کندہ ہے۔

  • کین رچرڈسن کا پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    کین رچرڈسن کا پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

     سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر کین رچرڈسن نے پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

    سڈنی: (ویب ڈیسک) 34 سالہ رچرڈسن نے بگ بیش لیگ سیزن کے اختتام پر انسٹاگرام پر کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، کین رچرڈسن نے سڈنی سکسزرز کے ساتھ ایک سالہ معاہدہ کیا تھا،

    تاہم وہ اس سیزن میں صرف 2 میچز ہی کھیل سکے، وہ بگ بیش لیگ کے ابتدائی سیزن سے ہی اس ٹورنامنٹ کا حصہ رہے ۔

    رچرڈسن نے اپنے بگ بیش کیریئر کا اختتام ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پانچویں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر کے طور پر کیا، انہوں نے 142 وکٹیں حاصل کیں۔

    اپنے بیان میں کین رچرڈسن نے کہا کہ میں بگ بیش لیگ کے اختتام پر پیشہ ورانہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہوں۔ 2009 میں ڈیبیو سے لے کر اب تک، مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کر لی ہیں اور اب اس شاندار سفر کو ختم کرنے کا صحیح وقت ہے۔

    واضح رہے کہ رچرڈسن نے آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے 25 ون ڈے اور 36 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔

    وہ 2021 میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ تھے، جبکہ 2019 آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی انہوں نے شرکت کی۔

  • اویس ٹائیگرز نے اویس آٹو موبائلز ٹرافی 2026 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    اویس ٹائیگرز نے اویس آٹو موبائلز ٹرافی 2026 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    طلحہ احمد بٹ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار، زمزمہ گراؤنڈ میں شاندار فائنل مقابلہ

    اویس ٹائیگرز نے اویس آٹو موبائلز ٹرافی 2026 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    کراچی (اسپورٹس رپورٹر ریحان اکرم) کراچی کے علاقے کلفٹن میں منعقدہ اویس آٹو موبائلز ٹرافی 2026 کا ٹائٹل اویس ٹائیگرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نام کر لیا، جبکہ ٹورنامنٹ میں نمایاں کھیل پیش کرنے پر طلحہ احمد بٹ کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔

    زمزمہ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس کرکٹ ایونٹ میں نوجوان کھلاڑیوں نے اعلیٰ معیار کے مقابلے پیش کیے اور شائقینِ کرکٹ کی بڑی تعداد نے ہر میچ میں بھرپور دلچسپی لی۔ فائنل مقابلہ انتہائی سنسنی خیز رہا، جہاں اویس ٹائیگرز نے بھرپور کھیل کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔

    ٹورنامنٹ میں شہر بھر سے مختلف ٹیموں نے شرکت کی، جبکہ منتظمین کا کہنا تھا کہ ایسے ایونٹس نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور آگے بڑھنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مستقبل میں بھی اس طرح کے ٹورنامنٹس کے انعقاد کے عزم کا اظہار کیا۔

    میچز کے دوران بلے بازوں کی جارحانہ بیٹنگ اور بولرز کی عمدہ لائن و لینتھ نے مقابلوں کو انتہائی دلچسپ بنائے رکھا اور ہر جانب کرکٹ کا جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔

    اختتامی تقریب میں کامیاب ٹیم اویس ٹائیگرز کو ٹرافی پیش کی گئی، جبکہ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ طلحہ احمد بٹ سمیت دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں بھی انعامات تقسیم کیے گئے۔ ٹورنامنٹ خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

  • نیوزی لینڈ کیخلاف ابھیشیک شرما کی 14 گیندوں پر برق رفتار ففٹی

    نیوزی لینڈ کیخلاف ابھیشیک شرما کی 14 گیندوں پر برق رفتار ففٹی

    نیوزی لینڈ کیخلاف ابھیشیک شرما کی 14 گیندوں پر برق رفتار ففٹی

    بھارت نے ابھیشیک شرما کی شاندار اور برق رفتار نصف سنچری کی بدولت تیسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں 0-3 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔

    گوہاٹی میں کھیلے گئے میچ میں بھارت نے ہر شعبے میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 8 وکٹوں سے ہرایا۔

    نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 153 رنز بنائے، جس میں گلین فلپس 48 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

    بھارتی بولنگ اٹیک نے آغاز ہی سے کیویز پر دباؤ برقرار رکھا، خاص طور پر جسپریت بمراہ نمایاں نظر آئے، جنہوں نے 17 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔

    جواب میں بھارت نے 154 رنز کا ہدف محض 10 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

    بھارتی بلے بازوں نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے نیوزی لینڈ کے بولرز کو کوئی موقع نہ دیا۔ ابھیشیک شرما نے صرف 14 گیندوں پر ففٹی مکمل کی اور 20 گیندوں پر 68 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔

    کپتان سوریا کمار یادیو نے بھی شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 26 گیندوں پر 57 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔

    ابھیشیک شرما کی 14 گیندوں پر نصف سنچری بھارت کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دوسری تیز ترین ففٹی ہے۔

  • پاکستان کی ورلڈکپ شرکت پر فیصلہ چند روز بعد ہوگا: چیئرمین محسن نقوی

    پاکستان کی ورلڈکپ شرکت پر فیصلہ چند روز بعد ہوگا: چیئرمین محسن نقوی

    پاکستان کی ورلڈکپ شرکت پر فیصلہ چند روز بعد ہوگا: چیئرمین محسن نقوی

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی شرکت یا عدم شرکت سے متعلق فیصلہ آئندہ چند روز میں ہوگا۔

    نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے اہم مشاورت کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ میگا ایونٹ سے متعلق حتمی اعلان جمعہ یا پیر کو متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومتی سطح پر ہونے والی مشاورت میں پاکستان کے ممکنہ لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا، جس میں ورلڈ کپ میں شرکت، احتجاجی حکمتِ عملی اور آئی سی سی کے کردار سمیت متعدد پہلو زیر بحث آئے۔

    اطلاعات ہیں کہ پاکستان کی جانب سے ورلڈ کپ میں شرکت کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے، تاہم اس کے ساتھ احتجاجی اقدامات اختیار کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ایک آپشن یہ بھی ہے کہ قومی ٹیم اپنے میچز کے دوران سیاہ پٹیاں باندھ کر میدان میں اترے تاکہ احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ممکنہ فتوحات کو بنگلادیشی کرکٹ شائقین کے نام منسوب کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

    پس منظر کے طور پر یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حال ہی میں ایک بنگلادیشی کھلاڑی کو سیکیورٹی خدشات کا جواز بنا کر آئی پی ایل سے باہر کر دیا گیا تھا، جس کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا۔ بنگلادیشی بورڈ کا مؤقف تھا کہ اگر ایک کھلاڑی کی سیکیورٹی یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو پوری ٹیم کے تحفظ کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے۔

    تاہم آئی سی سی نے بنگلادیش کے مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا اور بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا۔ اس فیصلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا، اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بنگلادیش کے مؤقف کو اصولی قرار دیتے ہوئے آئی سی سی کے طرزِ عمل کو مسترد کیا تھا۔

    دوسری جانب بھارت میں ایک خطرناک وائرس کے پھیلاؤ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت پانچ افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    یہ وائرس ایسے وقت میں پھیلنا شروع ہوا ہے جب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز میں صرف چند ہفتے باقی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو ایونٹ کی تیاریوں، سیکیورٹی انتظامات اور ٹیموں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

    ان تمام حالات کے تناظر میں پاکستان کا آئندہ لائحہ عمل غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور کرکٹ حلقوں کی نظریں حکومت اور پی سی بی کے متوقع فیصلے پر مرکوز ہیں۔

  • جب کرکٹر سرمایہ کاری کے میدان میں اترے ;

    جب کرکٹر سرمایہ کاری کے میدان میں اترے ;

    جب کرکٹر سرمایہ کاری کے میدان میں اترے ; 

    غیر معمولی منافع، معمولی سوالات، اور انجام ہمیشہ کی طرح

    مسرت اللہ جان ; پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، ایک مکمل طرزِ فکر ہے۔ یہاں جیت قومی فخر بنتی ہے اور ہار پر پوری قوم کوچ بن جاتی ہے۔ مگر اس بار معاملہ بیٹ اور بال کا نہیں، بلکہ کروڑوں روپے، غیر معمولی منافع، اور غیر معمولی خاموشی کا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کے سابق اور موجودہ کئی نامور قومی کرکٹرز ایک مبینہ بڑے مالی فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔ کہانی میں سب کچھ ہے۔ شہرت، دوستی، لالچ، خاموشی، اور آخر میں وہی پرانا پاکستانی سوال کہ شکایت کہاں گئی۔

    اطلاعات کے مطابق کرکٹرز نے کسی بھی سرکاری یا قانونی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی۔ نہ پولیس، نہ ایف آئی اے، نہ نیب، اور نہ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ زحمت دی گئی کہ بھئی ہمارے ساتھ بھی کچھ ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سب ایک خفیہ سیریز تھی، جس کی اسکور کارڈ عوام کو دکھانے کی اجازت نہیں۔

    کہانی کا آغاز ایک سابق کپتان سے ہوتا ہے، جی ہاں وہی کپتان جسے فالو کرنا ہمارے ہاں صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہتا۔ سرمایہ کاری کی گئی، منافع آیا، اور پھر دیکھا دیکھی دوسرے کرکٹرز بھی اس کاروباری شخص کے ساتھ لگ گئے۔

    کسی نے براہ راست کروڑوں دیے، کسی نے دوستی کے نام پر، اور کسی نے شاید اس یقین کے ساتھ کہ جب بڑے نام کھیل رہے ہوں تو پچ خراب نہیں ہو سکتی۔ یہاں عقل، تجربہ اور مالی مشیر تینوں نے اجتماعی طور پر چھٹی لے لی۔

    غیر معمولی منافع کا وعدہ ایسا تھا کہ لگتا تھا یہ کاروبار نہیں بلکہ کوئی خصوصی پاور پلے ہے، جہاں رسک آؤٹ نہیں ہوتا۔ ابتدا میں واقعی پیسے آئے۔ اعتماد بڑھا۔ مسکراہٹیں آئیں۔ واٹس ایپ میسجز میں اعداد و شمار چمکنے لگے۔

    اور پھر اچانک، کھیل کا رخ بدل گیا۔ کاروباری شخص منظر سے غائب۔ فون بند۔ پیغامات کا کوئی جواب نہیں۔ منافع بند۔ اور چند ہفتوں بعد احساس ہوا کہ اب غیر معمولی منافع نہیں، صرف اصل رقم کی واپسی کی دعا باقی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض کرکٹرز کو کچھ رقم واپس بھی ملی، شاید اس لیے کہ امید مکمل طور پر نہ مرے، مگر زیادہ تر اب بھی ہاتھ مل رہے ہیں۔ معاملہ مزید دلچسپ اس وقت ہو جاتا ہے

    جب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشہور کرکٹ ایجنٹ بھی اسی قطار میں کھڑا ہے۔ وہی ایجنٹ جو کنٹریکٹس میں ایک ایک لفظ پر بحث کرتا ہے، یہاں شاید صرف اعتماد پر دستخط ہو گئے۔

    مبینہ فراڈ کرنے والا شخص امریکا میں مقیم بتایا جاتا ہے اور کئی پاکستانی کرکٹرز سے اس کی ذاتی دوستی تھی۔ یہی دوستی شاید سب سے مہنگی ثابت ہوئی۔

    یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے کرکٹرز نے بنیادی سوال کیوں نہیں کیے۔ کاروبار کیا ہے؟ رجسٹرڈ کہاں ہے؟ منافع آ کہاں سے رہا ہے؟ اور سب سے اہم بات، اگر یہ اتنا آسان تھا تو پوری دنیا کیوں نہیں کر رہی تھی۔

    پاکستان میں غیر معمولی منافع ہمیشہ خطرے کی گھنٹی ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں گھنٹی بجتی نہیں، سیدھا کیش نکل جاتا ہے۔ کرکٹر چونکہ میدان میں رسک لیتا ہے، شاید اسی عادت نے مالی معاملات میں بھی اسے نڈر بنا دیا۔ مگر یہاں فاسٹ بالر نہیں ہوتا، یہاں غلط فیصلہ سیدھا کلین بولڈ کر دیتا ہے۔

    سب سے حیران کن پہلو اب بھی وہی خاموشی ہے۔ اتنا بڑا نقصان، اتنے بڑے نام، اور مکمل سکوت۔ یہ خاموشی چیخ چیخ کر سوال پوچھ رہی ہے۔ کیا بدنامی کا خوف ہے؟ کیا ٹیکس کا مسئلہ ہے؟

    یا یہ ڈر کہ اگر شکایت کی تو کہیں اور حساب نہ مانگ لیا جائے؟ پاکستان میں اکثر بڑے مالی فراڈ اسی خاموشی کے سائے میں پنپتے ہیں، کیونکہ فراڈ سے زیادہ طاقتور چیز یہاں شرمندگی کا خوف ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کا کردار بھی اس کہانی میں محض ایک تماشائی کا ہے، بلکہ شاید اسے خبر ہی نہیں دی گئی۔ حالانکہ یہ معاملہ براہ راست کھلاڑیوں کے مالی تحفظ سے جڑا ہے۔

    اگر قومی سطح کے کرکٹر اس طرح کے فراڈ کا شکار ہو سکتے ہیں تو ڈومیسٹک کرکٹرز اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے خطرہ کہیں زیادہ ہے۔ بورڈ اگر واقعی کھلاڑیوں کا سرپرست ہے تو اسے ایسے معاملات میں رہنمائی اور تحفظ کا نظام بنانا ہوگا، ورنہ ہر نیا ٹیلنٹ کسی نہ کسی کاروباری “دوست” کے ہاتھوں آزمائش بن جائے گا۔

    یہ بھی ماننا پڑے گا کہ شہرت اور دولت اکثر انسان کو یہ غلط فہمی دے دیتی ہے کہ وہ ہر کھیل جیت سکتا ہے۔ کرکٹر میدان میں جتنا پراعتماد ہوتا ہے، مالی معاملات میں اتنا ہی سادہ لوح ثابت ہو جاتا ہے۔ غلط مشورے، جلدی فیصلے، اور غیر معمولی لالچ ایک ایسا امتزاج ہیں جو بڑے بڑے ناموں کو بھی زمین پر لے آتا ہے۔

    اب کرکٹرز اصل رقم واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر رابطہ ممکن نہیں۔ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر انجام کچھ زیادہ خوشگوار نظر نہیں آتا۔ اگر یہ معاملہ بھی دب گیا، اگر کوئی مثال قائم نہ ہوئی، تو اگلا فراڈ پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ آئے گا، کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ یہاں نقصان خاموشی میں برداشت کر لیا جاتا ہے۔

    طنز اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ ہنسنے کا نہیں، سیکھنے کا ہے۔ کرکٹ میں امپائر انگلی اٹھاتا ہے، کاروبار میں نہیں۔ وہاں خود فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ گیند کھیلنی ہے یا چھوڑنی۔ اور جب گیند مشکوک ہو، تو بہترین شاٹ دفاع ہوتا ہے۔

  • مبینہ فراڈ کی خبروں پر پاکستانی کرکٹرز کی وضاحت، سرمایہ کاری تسلیم ، دھوکے سے انکار

    مبینہ فراڈ کی خبروں پر پاکستانی کرکٹرز کی وضاحت، سرمایہ کاری تسلیم ، دھوکے سے انکار

    مبینہ فراڈ کی خبروں پر پاکستانی کرکٹرز کی وضاحت، سرمایہ کاری تسلیم، دھوکے سے انکار

    پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرزنے کہا ہے کہ انہوں نے ایک نجی کمپنی میں باقاعدہ اور قانونی طور پر سرمایہ کاری کی تھی اور اب تک انہیں کسی قسم کے فراڈ یا دھوکے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرزسے منسوب مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں کی جانب سے اہم وضاحتی بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئےکہا کہ جس کمپنی میں سرمایہ کاری کی گئی،

    وہ مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں ہے اور کمپنی انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مارچ 2026 تک تمام واجبات ادا کر دیے جائیں گے، اب تک صرف دو چیک واپس آئے ہیں، جسے وہ کسی بڑے فراڈ کا ثبوت قرار نہیں دیتے۔

    کھلاڑیوں کے مطابق اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا اور صورتحال سے آگاہی حاصل کی۔  کرکٹرز نے چیئرمین پی سی بی کو بتایا کہ فی الحال کوئی سنگین مسئلہ سامنے نہیں آیا اور کمپنی کی جانب سے ادائیگیوں کی یقین دہانی موجود ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی کا مالک دبئی میں مقیم ہے اور وہ مسلسل سرمایہ کار کھلاڑیوں سے رابطے میں ہے،

    اگر مستقبل میں کوئی منفی پیش رفت سامنے آئی تو وہ متعلقہ فورمز اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو فوری طور پر آگاہ کریں گے، اس وقت معاملہ زیرِ نگرانی ہے اور کسی قانونی کارروائی کی نوبت نہیں آئی۔

    دوسری جانب اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مبینہ فراڈ سے متعلق کرکٹرز نے کسی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی ا

    ور نہ ہی اس معاملے کو حل کروانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رجوع کیا گیا، بعض کھلاڑیوں نے ایک سابق کپتان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک کاروباری شخصیت کے ساتھ سرمایہ کاری کی۔

    اطلاعات کے مطابق موجودہ کرکٹرز میں بھی سابق اور موجودہ کپتانوں کے نام شامل بتائے گئے ہیں، جبکہ کچھ کھلاڑیوں نے براہِ راست اس کاروباری شخصیت کے ساتھ سرمایہ کاری کی۔

    غیر معمولی منافع کے حصول کی امید میں کروڑوں روپے فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے بعد سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں مبینہ فراڈ کی خبریں گردش کرنے لگیں۔

  • آئی سی سی کو انڈین کرکٹ کونسل نہیں بننا چاہیے ; نجم سیٹھی

    آئی سی سی کو انڈین کرکٹ کونسل نہیں بننا چاہیے ; نجم سیٹھی

    آئی سی سی کو انڈین کرکٹ کونسل نہیں بننا چاہیے: نجم سیٹھی

    سابق چیئر مین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو انڈین کرکٹ کونسل نہیں بننا چاہیے۔ اگر دیگر ممالک ساتھ کھڑے ہوں تو آئی سی سی کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ یہ انڈین کرکٹ کونسل نہیں، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہے۔

    سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے ایکسپریس نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ سیریز کے لیے ہائبرڈ ماڈل ہم نے متعارف کرایا۔ پاکستان بھارت نہیں جا سکتا، اسی لیے دبئی میں میچز کا فیصلہ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے پل آؤٹ کرلیا ہے۔ دیکھنا ہے اب پی سی بی کیا فیصلہ کرتا ہے۔ ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کے لئے نیک تمنائیں ہیں۔

    نجم سیٹھی نے کہا کہ بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی کی واپسی خوش آئند ہے۔ بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی کو ہر ٹیم میں ہونا چاہیے۔پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ضرور پہنچے گی۔

error: Content is protected !!