ہاکی

نجی شعبے کی شراکت داری پاکستان ہاکی کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے: محی الدین وانی

نجی شعبے کی شراکت داری پاکستان ہاکی کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے: محی الدین وانی

اسلام آباد: پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے قومی کھیل کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے الاسکا بیٹریز اور اسکائی 47 کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے۔ تقریب امی عامر خان باکسنگ جمنازیم، پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ و صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن محی الدین احمد وانی، چیئرمین الاسکا بیٹریز ہارون محمود، سی ای او اسکائی 47 حسن عباس، سابق اولمپیئنز، اسپورٹس آفیشلز، کھلاڑیوں اور کارپوریٹ نمائندگان نے شرکت کی۔ پی ایچ ایف کا گراس روٹ سطح پر ہاکی کی بحالی کا منصوبہ: تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محی الدین وانی نے کہا کہ ہاکی کی بحالی کے لیے ہر سطح پر مستقل اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا،“یہ ایک دن کا کام نہیں، لیکن ہم نے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور ہر سطح پر ہاکی کی حمایت جاری رکھیں گے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی توجہ صرف قومی ٹیم تک محدود نہیں ہوگی بلکہ 10 سے 12 سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں میں ٹیلنٹ کی نشوونما پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے کے تعاون سے رواں سال ملک بھر کے تقریباً ایک ہزار اسکولوں میں ہاکی سرگرمیوں کے آغاز کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ محی الدین وانی نے کہا، “ہاکی ہماری قومی کھیلوں کی ثقافت کا حصہ رہنی چاہیے۔ ہم 1984 کے سنہری دور اور 1994 کے ورلڈ کپ کی تاریخی کامیابیوں کی یادیں دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔” کارپوریٹ اسپانسرشپ کا خیرمقدم: صدر پی ایچ ایف نے الاسکا بیٹریز اور اسکائی 47 کی جانب سے ہاکی کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کی ترقی کے لیے کارپوریٹ اسپانسرشپ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اسپانسرشپ سے حاصل ہونے والی تمام رقم صرف کھلاڑیوں کی فلاح، تربیت، سہولیات اور بین الاقوامی معیار کی تیاری پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، “یہ رقم کھلاڑیوں کی امانت ہے اور اسے ان کی ٹریننگ، سہولیات اور بین الاقوامی معیار کی تیاری پر خرچ کیا جائے گا۔” حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کی حمایت کا اظہار وفاقی وزیر اورنگزیب کچھی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے تقریب میں موجود انڈر 18 کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ پاکستان ہاکی کا مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھاس کے میدانوں سے آسٹروٹرف پر منتقلی کے باعث پاکستان کو انفراسٹرکچر کی کمی کا سامنا رہا، تاہم انہیں یقین ہے کہ بڑے اور چھوٹے شہروں میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز کے ذریعے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا، “مناسب رہنمائی اور سرمایہ کاری سے مجھے یقین ہے کہ پاکستان ایک بار پھر چیمپئنز ٹرافی، ایشیا کپ اور ورلڈ کپ جیتے گا۔” اسپانسرز اور سابق کھلاڑیوں کے عزم کا اظہار: چیئرمین الاسکا بیٹریز ہارون محمود نے کہا کہ پاکستان میں ہاکی کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور مشترکہ کوششوں سے پاکستان عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ سی ای او اسکائی 47 حسن عباس نے کہا کہ کھیلوں خصوصاً ہاکی کی سرپرستی قومی ذمہ داری ہے، اور ان کی کمپنی نوجوان کھلاڑیوں کو اعلیٰ سطح پر کھیلنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ سابق اولمپیئن توقیر ڈار نے اس اقدام کو حوصلہ افزا قرار دیا جبکہ سابق کرکٹر راشد لطیف نے پاکستان ہاکی کے سنہری دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اسپانسرشپ اور ادارہ جاتی تعاون کھیل کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان ہاکی فیڈریشن، الاسکا بیٹریز اور اسکائی 47 کے درمیان ملک بھر میں ہاکی کے فروغ اور نوجوانوں کے پروگرامز کی حمایت کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط کیے گئے۔

Related Articles


Back to top button