Games

پاکستان کو جیت سے محروم کیا گیا! ملیحہ علی کا برونز، ججز کے فیصلے پر بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا

آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ: ملیحہ علی کا برونز میڈل، 

سیمی فائنل کے تنازع پر پاکستان کی اپیل

لاہور: پاکستان کی ملیحہ علی نے جارجیا کے شہر تبلیسی میں منعقدہ آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ کے وومن فیڈر ویٹ (65.8 کلوگرام) کے سیمی فائنل میں روس کی پولینا بالڈینا کے خلاف متنازع اسپلٹ فیصلے کی شکست کے بعد برونز میڈل حاصل کر لیا ہے۔

پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن نے ججز کی اسکورنگ کےتفصیلی جائزے اور مختلف اسکور کارڈز کی وضاحت کے لیے اس فیصلے کو باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا ہے۔

ایک اہم وضاحت میں فیڈریشن نے اعتراف کیا کہ اس سے قبل ملیحہ کے فائنل میں پہنچنے کا اعلان درست نہیں تھا۔ وہ درحقیقت سیمی فائنل میں پہنچی تھیں، جہاں انہیں بالڈینا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے مقابلے کا اختتام کانسی کے تمغے کے ساتھ کیا۔

ملیحہ نے چیمپئن شپ کے دوران انتہائی جرات اور عزائم کا مظاہرہ کیا اور پاؤں کی انگلی میں فریکچر، آنکھ کی سوجن اور جبڑے کی معمولی عدم ترتیبی (ڈس لوکیشن) کے باوجود مقابلہ جاری رکھا۔

 انہوں نے اپنے سفر کا آغاز دو بار کی یورپی چیمپئن روسی فائٹر ویرونیکا ڈروزڈووا کے خلاف شاندار اسپلٹ فیصلے کی فتح سے کیا، جس کے بعد سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے میکسیکو کی اینڈریا گیبریلا گزمین سالازار کو متفقہ فیصلے سے شکست دی۔

بالڈینا کے ساتھ ان کا مقابلہ انتہائی سخت رہا، تاہم ججز نے تین مختلف اسکور کارڈ پیش کیے: ایک جج نے 27-30 سے روسی فائٹر کی فتح کا فیصلہ دیا، دوسرے نے 28-29 سے ملیحہ کے حق میں اسکور کیا، جبکہ تیسرے جج نے 28-29 سے بالڈینا کو فاتح قرار دیا۔

پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن کے صدر عمر احمد نے اس نتیجے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی فائٹر ایک بہتر نتیجے کی حقدار تھیں۔ 

فیڈریشن نے آئی ایم ایم اے ایف کی ریفرینگ اینڈ ججنگ کمیشن کے سربراہ کو باضابطہ اپیل جمع کرائی ہے، جس میں راؤنڈ بائے راؤنڈ اسکورنگ کی تفصیلات، تضادات کی وضاحت اور مقابلے کا آمنے سامنے فنی جائزہ (ٹیکنیکل ریویو) لینے کی درخواست کی گئی ہے۔

عمر احمد نے گزشتہ سال کی چیمپئن شپ کے دوران پاکستان کو درپیش اسی قسم کے تجربے پر روشنی ڈالتے ہوئے بین الاقوامی ججنگ کے معیار میں مزید تسلسل اور شفافیت کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا، اس سال کے شروع میں انگولا میں منعقدہ آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ کپ میں گولڈ میڈل جیتنے والی ملیحہ کی جڑواں بہن منیشہ علی کو لائٹ ویٹ کوارٹر فائنل میں پولینڈ کی مارٹینا کاروک کے خلاف معمولی اسپلٹ فیصلے سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ اپیل کا فیصلہ ابھی التوا میں ہے، لیکن ملیحہ عالمی اسٹیج پر شاندار جرات اور فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ چیمپئن شپ کا برونز میڈل لے کر وطن واپس لوٹ رہی ہیں۔

Related Articles


Back to top button