کراچی میں ٹیبل ٹینس کا زوال — ایک سنہرا دور جو آہستہ آہستہ ختم ہو گیا
حکومتی سرپرستی، کلبوں کی بحالی اور باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے ماہانہ وظائف وقت کی اہم ضرورت ہیں
ایک وقت تھا جب کراچی میں ٹیبل ٹینس کو بھرپور فروغ حاصل تھا۔ شہر کے مختلف کلبوں، کھیلوں کے مراکز اور تعلیمی اداروں میں یہ کھیل نہایت شوق و جذبے سے کھیلا جاتا تھا۔ باقاعدگی سے ٹورنامنٹس منعقد ہوتے، نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے اور کھیل سے وابستہ افراد اس کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرتے تھے۔ کراچی میں ٹیبل ٹینس محض ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک صحت مند کھیلوں کی ثقافت اور نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کا ایک اہم ذریعہ تھی۔ امروہہ کلب (گلبرگ)، مرکزِ ثقافت (گلبرگ)، ینگ اسٹارز کلب (شاداب گراؤنڈ)، خان لیاقت علی خان اسپورٹس کمپلیکس (فیڈرل بی ایریا)، بدر الحسن اسپورٹس کمپلیکس (ناظم آباد)، وائی ایم سی اے کلب، شرف آباد کلب، یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کا ٹیبل ٹینس ہال، نیشنل کالج کا ٹیبل ٹینس ہال، اسٹار گیٹ ایئرپورٹ ٹیبل ٹینس کلب اور کسٹمز ٹیبل ٹینس کلب (نیپا) سمیت کئی مقامات پر ٹیبل ٹینس کی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں۔ ان کلبوں اور مراکز میں کھلاڑیوں کو مشق کرنے، اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور مقابلوں میں حصہ لینے کے مواقع میسر آتے تھے۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ یہ سرگرمیاں بتدریج کم ہوتی گئیں۔ کئی کلبوں میں ٹیبل ٹینس کی سرگرمیاں محدود ہو گئیں، بعض مقامات پر یہ کھیل تقریباً ختم ہو گیا اور ٹورنامنٹس کا تسلسل بھی متاثر ہوا۔ باصلاحیت کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک چلی گئی، جبکہ بعض کھلاڑی معاشی مسائل، ملازمتوں اور دیگر ذمہ داریوں کے باعث کھیل کو جاری نہ رکھ سکے۔ حکومتی سرپرستی کا فقدان، زوال کی ایک اہم وجہ ; کراچی میں ٹیبل ٹینس کی موجودہ صورتِ حال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کھیل کو حکومتی سطح پر وہ توجہ، سرپرستی اور مالی معاونت حاصل نہیں ہو رہی جس کی اسے ضرورت ہے۔ کسی بھی کھیل کی ترقی صرف کھلاڑیوں کی محنت اور صلاحیتوں پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، کھیلوں کی تنظیموں اور نجی شعبے کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ ماضی میں کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT)، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA)، سوئی گیس، کراچی الیکٹرک کارپوریشن (KEC) اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) جیسے ادارے کھیلوں کی سرپرستی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان اداروں سے وابستہ کھیلوں کے شعبوں نے کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔ تاہم، کھیلوں کی سرپرستی میں کمی اور مستقل معاونت کے فقدان نے ٹیبل ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کو متاثر کیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ سندھ اور کراچی کی شہری حکومت ٹیبل ٹینس کی بحالی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کریں۔ محض اعلانات کافی نہیں؛ کھیلوں کے کلبوں کو فعال بنانا، معیاری سہولتیں فراہم کرنا، تربیتی مراکز قائم رکھنا اور باقاعدگی سے ضلعی، صوبائی اور بین الکلب ٹورنامنٹس منعقد کرنا ضروری ہے۔ باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے ماہانہ وظائف کا اجرا ; ٹیبل ٹینس کے بہت سے باصلاحیت کھلاڑی محدود مالی وسائل کے باوجود اپنی محنت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کھیل کے اخراجات، تربیت، سفری ضروریات، کھیلوں کا سامان اور روزمرہ زندگی کی معاشی مشکلات اکثر ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ حکومتِ سندھ اور متعلقہ کھیلوں کے ادارے میرٹ کی بنیاد پر نمایاں اور مستحق کھلاڑیوں کے لیے باقاعدہ ماہانہ وظائف کا نظام متعارف کرائیں۔ یہ وظائف صرف ایک وقتی امداد نہ ہوں، بلکہ ان کے ذریعے کھلاڑیوں کو مستقل بنیادوں پر مالی تحفظ فراہم کیا جائے، تاکہ وہ معاشی پریشانیوں سے آزاد ہو کر اپنی تربیت اور کھیل پر توجہ دے سکیں۔ کھلاڑیوں کی کارکردگی، قومی و صوبائی مقابلوں میں کامیابی اور میرٹ کو وظائف کے انتخاب کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ جونیئر کھلاڑیوں کے لیے بھی خصوصی معاونت کا انتظام کیا جائے، تاکہ نئی نسل کو ابتدا ہی سے آگے بڑھنے کے مواقع مل سکیں۔ جامعات اور میڈیکل کالجوں میں کھیلوں کی نشستیں بحال کی جائیں ; ٹیبل ٹینس کے فروغ کے لیے تعلیمی ادارے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماضی میں کھیلوں کی بنیاد پر تعلیمی اداروں میں داخلے اور دیگر مراعات کھلاڑیوں کے لیے آگے بڑھنے کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں۔ اس لیے متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی، داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی و کالج، سندھ میڈیکل کالج اور ڈاؤ میڈیکل کالج سمیت متعلقہ اداروں میں کھیلوں کی بنیاد پر داخلوں اور مختص نشستوں کی بحالی یا مؤثر فعالیت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ان اداروں میں ٹیبل ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو میرٹ اور شفاف طریقۂ کار کے تحت داخلے، اسکالرشپس اور تعلیمی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس سے نوجوانوں کو یہ اعتماد ملے گا کہ کھیل میں نمایاں کارکردگی دکھانے سے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے گا بلکہ ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کے دروازے بھی کھلیں گے۔ حکومت اور جامعات کو چاہیے کہ کھلاڑیوں کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لیے مناسب سہولتیں، تربیت کے مواقع اور امتحانات کے دوران ضروری تعاون بھی یقینی بنائیں۔ تعلیم اور کھیل کو ایک دوسرے کا متبادل بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا معاون بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ کلبوں کی بحالی اور مستقل ٹورنامنٹس کا انعقاد ناگزیر ; کراچی میں ٹیبل ٹینس کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ سابقہ فعال کلبوں کو دوبارہ آباد کیا جائے اور جہاں ممکن ہو وہاں ٹیبل ٹینس کی سہولتیں بحال کی جائیں۔ کھیلوں کے مراکز میں مناسب میزیں، معیاری سامان، تربیت یافتہ کوچز اور مشق کے لیے مقررہ اوقات دستیاب ہونے چاہییں۔ اس کے ساتھ اسکولوں، کالجوں، جامعات اور مختلف علاقوں کی سطح پر مقابلوں کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جائے۔ ایک مؤثر نظام کے تحت جونیئر، سینئر اور خواتین کھلاڑیوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ بہترین کھلاڑیوں کی نشاندہی کرکے انہیں صوبائی اور قومی سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کیا جائے۔ نجی اداروں اور کارپوریٹ شعبے کو بھی ترغیب دی جائے کہ وہ ٹیبل ٹینس کلبوں، ٹورنامنٹس اور کھلاڑیوں کی مالی معاونت میں حصہ لیں۔ اگر ان اقدامات کو مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے تو نہ صرف کھیل میں نئی جان پڑ سکتی ہے بلکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور کراچی کی کھیلوں کی شناخت بحال کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ حکومتِ سندھ اور کراچی کی شہری حکومت سے اپیل ; یہ معاملہ صرف ایک کھیل کے زوال کا نہیں، بلکہ نوجوانوں کے مستقبل، صحت مند سرگرمیوں اور کھیلوں کی ایک اہم روایت کو محفوظ بنانے کا بھی ہے۔ حکومتِ سندھ، کراچی کی شہری حکومت، محکمۂ کھیل اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے اپیل ہے کہ ٹیبل ٹینس کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ کلبوں کو فعال بنایا جائے، باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے ماہانہ وظائف مقرر کیے جائیں، کھیلوں کی بنیاد پر تعلیمی نشستیں بحال کی جائیں اور ٹورنامنٹس کے انعقاد کے لیے مستقل فنڈز مختص کیے جائیں۔ اگر آج اس کھیل کی سرپرستی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ کراچی ٹیبل ٹینس کی اپنی ماضی کی شناخت مزید کھو دے گا۔ لیکن اگر حکومت، تعلیمی ادارے، کھیلوں کی تنظیمیں اور نجی شعبہ مل کر آگے بڑھیں تو اس کھیل کو دوبارہ عروج پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ کراچی میں ٹیبل ٹینس کا سنہرا دور کبھی اس شہر کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس روایت کو محض یادوں تک محدود نہ رہنے دیا جائے، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اسے نئی زندگی دی جائے۔ کلب دوبارہ آباد ہوں، کھلاڑیوں کو مالی تحفظ ملے، نوجوانوں کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع پیدا ہوں اور ٹیبل ٹینس کے میدان ایک بار پھر کھلاڑیوں کے جوش و جذبے سے گونج اٹھیں۔ امید ہے کہ حکومتِ سندھ اور کراچی کی شہری حکومت اس اپیل پر توجہ دیتے ہوئے ٹیبل ٹینس کی بحالی کے لیے فوری اور دیرپا اقدامات کریں گی، تاکہ کراچی کا یہ خوبصورت کھیل ایک بار پھر اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کر سکے۔ کوچنگ کا فقدان: پرانے استاد یا تو دنیا سے چلے گئے یا بیرونِ ملک چلے گئے۔ نئے بچوں کو سکھانے والا کوئی پروفیشنل نظام نہیں رہا۔آج کراچی میں ٹیلنٹ اب بھی ہے، لیکن پلیٹ فارم نہیں ہے۔ اگر سندھ ٹیبل ٹینس ایسوسی ایشن، کے ایم سی اور پرائیویٹ اسپانسرز مل کر اسکول لیول پر لیگ، ڈیپارٹمنٹل نوکریوں کی بحالی اور کلبوں کی تزئین و آرائش کریں تو یہ سنہرا دور واپس آ سکتا ہے۔ورنہ ہم صرف یہی کہتے رہیں گے کہ "کراچی میں کبھی ٹیبل ٹینس بہت اچھی ہوتی تھی۔"