باکسنگ

اسلام آباد: عامر خان کی پریس کانفرنس، پاکستان میں پروفیشنل باکسنگ بورڈ کا قیام - عامر خان چیئرمین مقرر

اسلام آباد: عامر خان کی پریس کانفرنس، پاکستان میں پروفیشنل باکسنگ بورڈ کا قیام - عامر خان چیئرمین مقرر

پاکستان میں پروفیشنل باکسنگ کا نیا دور، عالمی معیار کا بورڈ قائم - پہلا شو 10 فروری کو ہوگا

عامر خان نے پاکستان پروفیشنل باکسنگ بورڈ کے قیام کا اعلان کر دیا رجسٹریشن شروع

اسلام آباد (سپورٹس لنک رپورٹ) پاکستان میں پروفیشنل باکسنگ کے فروغ، کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق شفاف، محفوظ اور منظم باکسنگ نظام متعارف کرانے کے لیے پاکستان پروفیشنل باکسنگ بورڈ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 

نئے بورڈ کے تحت باکسرز، ریفریز اور ججز کی باقاعدہ رجسٹریشن، لائسنسنگ، تربیت اور بین الاقوامی باکسنگ تنظیموں کے ساتھ روابط قائم کیے جائیں گے، جبکہ پہلے پروفیشنل باکسنگ شو کا انعقاد آئندہ سال 10 فروری کو متوقع ہے۔

اس بات کا اعلان پاکستان پروفیشنل باکسنگ باڈی کے چیئرمین عامر خان نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںتنظیم کےصدر شجاد خان، جنرل سیکرٹری طاہر خان ، ڈائریکٹرقانونی امورسلطان قمر افضال، آفیشل اینڈ ریفرنگ ڈائریکٹرسید کمال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، 

عامر خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں باکسنگ اکیڈمیز اور جدید جمنازیم کی شدید کمی ہے، خصوصاً کراچی کے علاقے لیاری سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، 

لیکن نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے مناسب سہولیات میسر نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ خالی اسپورٹس کمپلیکس اور دستیاب سرکاری اراضی پر باکسنگ اکیڈمیز قائم کرنے کے لیے تعاون کرے۔

 انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے متعدد مرتبہ اکیڈمیز کے قیام کے لیے جگہ فراہم کرنےکی درخواست کر چکے ہیں اور اگر سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ اپنی مدد آپ کے تحت مزید اکیڈمیز قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

 پاکستان کے باصلاحیت کھلاڑی اکثر مالی مشکلات اور بین الاقوامی مقابلوں کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے باعث ملک چھوڑنے یا دوسرے ممالک کی نمائندگی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ 

اگر کھلاڑیوں کی تربیت، سفری اخراجات اور مالی ضروریات پر سرمایہ کاری کی جائے تو انہیں پاکستان میں رہ کر ملک کی نمائندگی کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

 نئے بورڈ کے ذریعے باصلاحیت باکسرز کے لیے بیرون ملک مقابلوں، عالمی معیار کی تربیت اور اسپانسرشپ کے مواقع پیدا کیے جائیں گے، 

جبکہ مقابلہ جیتنے یا ہارنے کی صورت میں بھی کھلاڑیوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور مغربی ممالک میں پاکستانی باکسرز کے ٹیلنٹ کو تسلیم کیا جاتا ہے، 

لیکن افسوس کہ پاکستان میں باکسنگ کے لیے ایسا مضبوط اور مؤثر نظام موجود نہیں جو مقامی کھلاڑیوں کو عالمی سطح تک پہنچا سکے۔

ماضی میں متعدد باکسرز متنازع فیصلوں، ناقص انتظامات اور غیر شفاف نظام کے باعث مایوسی کا شکار ہوئے، جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں ضائع ہوئیں۔ نئے بورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد اس صورتحال کو تبدیل کرنا اور کھلاڑیوں کو میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ ادارہ حکومت کے بجائے نجی شعبے کی کاوش سے قائم کیا گیا ہے اور اس کے لیے کسی سرکاری فنڈنگ یا عوامی وسائل پر انحصار نہیں کیا جا رہا۔ 

ادارے میں قانونی امور کے لیے نمائندہ، تجربہ کار ریفریز، ججز اور دیگر تکنیکی ماہرین شامل ہوں گے تاکہ تمام مقابلے بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے مطابق منعقد کیے جا سکیں۔ 

بورڈ عالمی باکسنگ تنظیموں ڈبلیو بی سی (WBC)، ڈبلیو بی اے (WBA)، آئی بی ایف (IBF)، ڈبلیو بی او (WBO) اور کامن ویلتھ باکسنگ کے ساتھ روابط اور الحاق کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ٹائٹلز کے لیے مقابلے کا موقع فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام میں کھلاڑیوں کی صحت اور حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ مقابلوں سے قبل میڈیکل معائنے، فٹنس ٹیسٹ اور ضروری طبی جانچ لازمی ہوگی، جبکہ رنگ میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے اور غیر پیشہ ورانہ انتظامات کی اجازت نہیں ہوگی۔ 

اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ تجربے اور مقابلوں کے ریکارڈ میں واضح فرق رکھنے والے باکسرز کو غیر منصفانہ طور پر ایک دوسرے کے مدمقابل نہ لایا جائے۔

تنظیم کے صدرشجاد خان نے کہا کہ پاکستان میں باکسنگ کی ترقی کے لیے سب سے پہلے تکنیکی آفیشلز کی تربیت اور قابلیت پر توجہ دی جائے گی۔

 ریفریز اور ججز کے لیے قومی اور بین الاقوامی معیار کے تربیتی کورسز منعقد کیے جائیں گے، ان کی کارکردگی اور مہارت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا 

اور صرف اہل افراد کو مقابلوں کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی تاکہ کسی مستحق کھلاڑی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور مقابلوں کے فیصلے شفاف انداز میں کیے جا سکیں۔ 

برطانوی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے باکسنگ کمیشنز کے کامیاب ماڈلز کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں بھی محفوظ اور منظم نظام متعارف کرایا جائے گا،

تنظیم کے جنرل سیکرٹری طاہر خان نے کہا کہ ادارے کا بنیادی مقصد پاکستان کے باکسرز، ریفریز اور ججز کو عالمی سطح پر شناخت دلانا ہے۔ 

اس وقت پاکستانی باکسنگ حکام اور تکنیکی عہدیداران کو بین الاقوامی سطح پر وہ پہچان حاصل نہیں جو اس شعبے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

 نئے بورڈ کے ساتھ رجسٹر ہونے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا اور عالمی باکسنگ اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے انہیں بین الاقوامی مقابلوں اور عالمی ٹائٹلز میں شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ کی کوشش ہے کہ مستقبل میں پاکستانی ریفریز اور ججز بھی ایشین اور عالمی سطح کے مقابلوں میں ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ 

یہ پاکستان کی باکسنگ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ تکنیکی عملے کو بھی عالمی معیار کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

اس موقع پر بورڈ کے نمائندوں نے بتایا کہ پروفیشنل باکسنگ میں کامیابی کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں بلکہ مسلسل محنت، تربیت، مواقع اور بین الاقوامی روابط بھی ضروری ہیں۔ 

دنیا میں بہت کم باکسرز مالی طور پر انتہائی کامیاب ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر کھلاڑی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اصل ضرورت انہیں مناسب پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔

بورڈ کے قانونی نمائندے سلطان نے کہا کہ پاکستان میں پروفیشنل باکسنگ کے لیے ایک مضبوط اور منظم نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قانونی تقاضوں، قواعد و ضوابط اور کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا 

تاکہ باکسنگ کے شعبے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو جس میں کھلاڑی اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔بورڈ حکام کے مطابق رجسٹریشن کے لیے ویب سائٹ Showboxing.com فعال کر دی گئی ہے، جہاں باکسرز، ریفریز، ججز اور دیگر متعلقہ افراد آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔ 

موصول ہونے والی درخواستوں کا بیک آفس ٹیم جائزہ لے گی، جس کے بعد امیدواروں کے میڈیکل ٹیسٹ، ضروری معائنے اور انٹرویوز کیے جائیں گے۔ تمام مراحل کامیابی سے مکمل کرنے والوں کو باقاعدہ لائسنس جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ باکسنگ مقابلوں کے نتائج اور کھلاڑیوں کا ریکارڈ مستند بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر محفوظ رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی باکسر کے مقابلوں کا ریکارڈ تبدیل نہ کیا جا سکے اور عالمی سطح پر اس کی کارکردگی کی تصدیق ممکن ہو۔

بورڈ کے عہدیداران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں پروفیشنل باکسنگ کو محفوظ، شفاف اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

 فروری میں پہلے باکسنگ شو کے انعقاد کے بعد اس سلسلے کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی چیمپئن بننے کا خواب اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے پورا کر سکیں۔

Related Articles


Back to top button