اسلام آباد کو جیت کیلئے 149رنز کا ہدف
اسلام آباد یونائیٹڈ کے جین پال ڈومینی نے پہلا اوور ہی سمیت پٹیل کے حوالے کیا، جنہوں نے پہلے اوور میں صرف ایک رنز دیا، دوسرے اوور میں محمد سمیع نے بھی نپی تلی گیند بازی کی اور صرف ایک ہی رنز بننے دیا۔
تیسرے اوور میں سمت پٹیل کی ابتدائی تین گیندوں پر فلیچر نے 2 چوکوں کی مدد سے 9رنز سمیٹے اور کامران اکمل کو بیٹنگ کا موقع دیا، جو بڑی شارٹ کھیلنے کے چکر میں ایل بی ڈبلیو آئوٹ ہوگئے، یوں صرف 10 کے مجموعی اسکور پر پشاور زلمی کا ٹاپ اسکور میدان چھوڑ گیا۔
شاداب خان نے چھٹے اوور کی آخری گیند پر 4 چوکوں کی مدد سے 21 رنز بنانے والے پشاور زلمی کے دوسرے اوپنر آندرے فلیچر کو بھی میدان سے واپسی کا راستہ دکھایا تو 38 کے اسکور پر ڈیرن سیمی الیون اپنی 3 اہم وکٹیں کھوچکی تھی۔
چوتھی وکٹ پر ڈائوسن اور جورڈن نے 54رنز کی شراکت قائم کی، دونوں کھلاڑیوں نے کئی خوبصورت اسٹروکس کھیلے اور اسلام آباد کے حسین طلعت نے ڈومینی کی مدد سے 90 کے اسکور پر جورڈن کو میدان بدر کیا۔
جوڈرن نے 26گیندوں پر 36رنز کی اننگز کھیلی ،اس دوران 3چوکے اور ایک چھکا بھی لگایا۔
اسلام آباد کے حسین طلعت نے سعد نسیم 2 رنز کو اپنا دوسرا شکار بنایا،یوں پشاور زلمی کی آدھی ٹیم 15 ویں اوور کی پہلی گیند پر پویلین لوٹ گئی۔
اسلام آباد کے شاداب خان نے 111 کے مجموعی اسکور پر دو لگاتار گیندوں پر ڈیرن سیمی اور عمید آصف کو میدان سے واپسی کا راستہ دکھایا اور پشاور کی بیٹنگ لائن کو ایک بار پھر مشکلات کا شکار کردیا۔پشاور زلمی کی 8ویں وکٹ 117 کے اسکور پر گر گئی،1 چھکے اور 1 چوکے کی مدد سے 33 رنز بنانے ڈائوسن کو محمد سمیع نے شاندار بولڈ آئوٹ کیا اور میچ میں اپنی دوسری وکٹ پکی کرلی۔
121 کے اسکور پر حسن علی 1چوکے کی مدد سے 6رنز ہی بناسکے تھے انہیں فہیم اشرف نے والٹن کی مدد سے قابو کرلیا ،یہ ان کی ایونٹ میں 18ویں وکٹ تھی۔