کرکٹ

افغانستان لیگ میں پاکستانی کرکٹرز پر تاحیات پابندی کی حقیقت کیا ہے؟ اصل کہانی سامنے آ گئی

افغانستان لیگ میں پاکستانی کرکٹرز پر تاحیات پابندی کی حقیقت کیا ہے؟ اصل کہانی سامنے آ گئی

لاہور / کابل: افغانستان پریمئر لیگ (APL) 2026 میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے کھلاڑیوں کو افغانستان لیگ کے لیے NOC (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین میر ویس اشرف کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ APL کی ڈرافٹ لسٹ میں لکھا گیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت PCB سے NOC ملنے سے مشروط ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان پریمئر لیگ 8 سال بعد دوبارہ شروع ہو رہی ہے، جو 27 دسمبر 2026 سے متحدہ عرب امارات میں کھیلی جائے گی۔ اس لیگ کے لیے 462 کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے، 

جن میں 30 سے زائد پاکستانی کھلاڑی بھی شامل ہیں جن میں فخر زمان، صائم ایوب، حسن علی، شان مسعود، محمد حسنین، امام الحق جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ صرف محمد عامر برطانوی شہریت کی وجہ سے اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ایس ایل سے کئی افغان کھلاڑی جیسے رحمان اللہ گرباز، محمد نبی، مجیب الرحمان اور نوین الحق دستبردار ہو گئے تھے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغان کرکٹ کی بنیاد پاکستان میں رکھی گئی۔ راشد خان، محمد نبی، گل بدین نائب سمیت افغانستان کے بیشتر سٹارز نے پشاور میں کرکٹ سیکھی۔ 

ابتدائی دور میں افغان ٹیم پاکستانی پاسپورٹ پر دنیا میں سفر کرتی تھی کیونکہ افغان پاسپورٹ پر ویزا ملنا مشکل تھا۔ آج بھی کئی افغان کھلاڑیوں کے گھر اور کاروبار پاکستان میں ہیں اور وہ پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں۔

تجزیہ: افغانستان کے اس فیصلے سے پاکستانی کھلاڑیوں کو ایک روپے کا بھی نقصان نہیں ہوگا۔ اگر افغانستان اجازت بھی دے تو پی سی بی خود اپنے کھلاڑیوں کو بھیجنے پر رضامند نہیں۔ APL ایک چھوٹی لیگ ہے جس کی مارکیٹ ویلیو پی ایس ایل کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

Related Articles


Back to top button