کرکٹ

افغان لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی، وقار یونس اور اظہر محمود پھر بھی شریک، شائقین آگ بگولہ

افغانستان پریمیئر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی، وقار یونس اور اظہر محمود کی شرکت پر شائقین برہم

اسلام آباد(نوازگوھر) پاکستانی کرکٹ شائقین میں اس وقت شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جب یہ خبر سامنے آئی کہ افغانستان پریمیئر لیگ (APL) 2026 کے لیے ہونے والے پلیئرز ڈرافٹ میں ایک بھی پاکستانی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا۔ 

اطلاعات کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے جان بوجھ کر پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ افغانستان کی جانب سے ایسا رویہ اختیار کیا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر افغان بورڈ کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے، 

جبکہ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ افغان کرکٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق افغانستان پریمیئر لیگ 2026 کے ڈرافٹ میں ایک بھی پاکستانی کھلاڑی کو پک نہیں کیا گیا۔ افغانستان کرکٹ بورڈ نے مبینہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کو لیگ کا حصہ بنانے سے گریز کیا ہے۔

دوسری جانب حیران کن طور پر پاکستان کے دو سابق لیجنڈ کرکٹرز وقار یونس اور اظہر محمود اسی لیگ کی فرنچائزز کے ساتھ منسلک ہیں اور ڈرافٹ میں بیٹھ کر غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے بولیاں لگا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کرکٹ فینز کی جانب سے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شائقین کا کہنا ہے کہ یہ سراسر بے غیرتی ہے کہ اپنے ملک کے کھلاڑیوں کو تو اس لیگ میں کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے

 اور ہمارے ہی سابق کھلاڑی چند پیسوں کی خاطر وہاں بیٹھ کر دوسرے ملکوں کے کھلاڑیوں کو خرید رہے ہوں۔سابق کرکٹرز سے بھی اس معاملے پر سخت سوالات کیے جا رہے ہیں کہ کیا چند ہزار ڈالرز قومی غیرت سے زیادہ اہم ہیں؟

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ غیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جس ملک کی لیگ میں آپ کے کھلاڑیوں کے لیے جگہ نہیں، تو اس لیگ کی فرنچائزز کے ساتھ آپ کا بھی کوئی رابطہ نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔آپ لوگوں کو ان دونوں کا ڈرافٹ میں بیٹھنا کیسا لگا؟ کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

شائقین کا مطالبہ:
شائقین نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور آئندہ کے لیے واضح پالیسی بنائے کہ جو لیگ پاکستانی کھلاڑیوں کو قبول نہیں کرتی، اس لیگ میں پاکستانی کوچز اور آفیشلز بھی شرکت نہیں کریں گے۔

Related Articles


Back to top button