بابر اعظم کی جگہ نہیں بنتی؟ سہ ملکی سیریز میں مسلسل ناکامی پر سوال
بابر اعظم کی جگہ نہیں بنتی؟ سہ ملکی سیریز میں مسلسل ناکامی پر سوال
لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کی فارم ایک بار پھر زیر بحث آ گئی ہے۔ سہ ملکی ون ڈے سیریز میں انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف مسلسل ناکامی کے بعد سلیکٹرز پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے کہ کیا بابر کو ٹیم میں برقرار رکھنا چاہیے؟
بابر اعظم اس سیریز کے تین میچوں میں بالترتیب 45، 34 اور صرف 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ہیں۔ بڑے اسکور میں تبدیل نہ کر پانے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بھی ان پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔
سابق ٹیسٹ کپتان محمد یوسف نے بھی ان کی تکنیکی خامی کی نشاندہی کی ہے۔ یوسف کے مطابق بابر کا دایاں کندھا کھلا رہنے کی وجہ سے وہ گیند کی لائن اور سوئنگ کو صحیح طرح جج نہیں کر پا رہے،
جس کی وجہ سے ان کی مشہور ایکسٹرا کور ڈرائیو غائب ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ بابر اعظم کو اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے ڈراپ کیا جا چکا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بابر نے 6 میچوں میں 91 رنز 112.34 کے اسٹرائیک ریٹ سے بنائے تھے،
جس کے بعد پی سی بی نے صاحبزادہ فرحان کو نیا ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر کیا تھا۔ جبکہ بابر، شاہین آفریدی اور حارث رؤف کو صرف ون ڈے اسکواڈ میں برقرار رکھا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے ایشین گیمز فائنل کے بعد ہنگامی میٹنگ میں بابر کو ٹی ٹوئنٹی سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اب سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر سمیت کئی سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر سری لنکا کے خلاف ہفتہ کو قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں بھی بابر بڑی اننگز نہ کھیل سکے تو ورلڈ کپ سے قبل سلیکٹرز کو سخت فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب بابر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کلاس کبھی ختم نہیں ہوتی اور ایک بڑی اننگز سب کچھ بدل دے گی۔