انڑویوز کرکٹ

جسے سلیکٹرز نے آزمایا، اس نے ٹرافی سے نوازا — سعد بیگ کی کہانی

 کیپر نہیں، گیم چینجر ہے — سعد بیگ نے ڈیبیو پر ہی بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا

پاکستان کے ابھرتے ہوئے وکٹ کیپر اور بیٹر سعد بیگ نے انٹرنیشنل کرکٹ میں شاندار آغاز کے بعد اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لانے اور قومی ٹیم کے لیے مستقل بنیادوں پر قابلِ اعتماد کھلاڑی بننے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ وہ اچھی اننگز کو بڑے اسکور میں تبدیل کرنے، اپنی خامیوں پر قابو پانے اور پاکستان کے لیے مسلسل عمدہ کارکردگی دکھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈیجیٹل پروگرام اسٹریٹ ڈرائیو ود سلمان بٹ میں گفتگو کرتے ہوئے 20 سالہ سعد بیگ نے اپنے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے تجربات مختلف بیٹنگ پوزیشنز پر کھیلنے دباؤ کی صورتحال سے نمٹنے اور انٹرنیشنل سطح پر اپنی جگہ مستحکم کرنے کے عزائم پر تفصیلی اظہار خیال کیا

 سعد بیگ نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی سہ ملکی ون ڈے سیریز میں پاکستان کی جانب سے اپنا ڈیبیو کیا اور پانچ میچوں میں مجموعی طور پر 185 رنز اسکور کیے،

 جس میں ان کی پہلی ون ڈے نصف سنچری بھی شامل تھی۔ انہوں نے ہفتے کے روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں سری لنکا کے خلاف فائنل میں 74 رنز کی اہم اننگز کھیلی، جس کی بدولت پاکستان نے تین وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے سہ ملکی سیریز کی ٹرافی اپنے نام کی

 انہوں نے ٹورنامنٹ کے دوران وکٹوں کے پیچھے تین کیچز بھی پکڑے اپنی بیٹنگ حکمت عملی کے حوالے سے سعد بیگ نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ابتدائی کامیابی کا بنیادی سبب خود اعتمادی اور اپنے قدرتی کھیل پر بھروسا تھا

 ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں حاصل ہونے والے اعتماد کو انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی برقرار رکھیں صورتحال چاہے ابتدائی وکٹیں گرنے کی ہو یا شراکت داری قائم کرنے کی 

انہوں نے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے قدرتی کھیل پیش کرنے کی کوشش کی انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات حالات کے مطابق اپنے قدرتی انداز پر قابو رکھتے ہوئے شراکت داری کو آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے جس کے لیے وہ اپنے بیٹنگ پارٹنر کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔

ٹیم کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالنے پر وہ خوش ہیں سعد بیگ نے پاکستان کے جونیئر کرکٹ نظام کے تحت انڈر 13 انڈر 16 اور انڈر 19 سطح پر اپنی صلاحیتوں کو نکھارا بعد ازاں 2024 کے آئی سی سی مینز انڈر 19 ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی قیادت کی جہاں پاکستان سیمی فائنل تک پہنچا 

تاہم آسٹریلیا کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں ایک وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ عمر کے مختلف گروپس سے ہوتے ہوئے پاکستان انڈر 19 ٹیم کی قیادت اور پھر سینئر قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا ان کے لیے انتہائی خوشگوار تجربہ ہے 

ان کے مطابق وہ اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے مثبت آغاز پر شکر گزار ہیں، تاہم یہ صرف ابتدا ہے ان کی توجہ مسلسل سیکھنے اپنی خامیوں کی نشاندہی کرنے اور کھیل میں مزید بہتری لانے پر مرکوز ہے تاکہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مستقل عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں

وکٹ کیپنگ میں بھی انہوں نے 3 اہم کیچز پکڑ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔

 سعد نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں جو اعتماد ملا اسی کو وہ انٹرنیشنل میں لے کر آئے۔ ان کی حکمت عملی سادہ تھی، صورتحال کے مطابق کھیلنا اور پارٹنر کے ساتھ کمیونیکیشن برقرار رکھنا۔

سعد بیگ پاکستان کے جونیئر سسٹم کی پیداوار ہیں، وہ انڈر 13، انڈر 16 سے ہوتے ہوئے انڈر 19 ٹیم کے کپتان بنے اور 2024 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل تک لے گئے جہاں ایک وکٹ سے آسٹریلیا سے شکست ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈر 19 کی کپتانی سے سینئر ٹیم تک کا سفر ان کے لیے خواب جیسا ہے، یہ صرف شروعات ہے، ابھی بہت سیکھنا ہے اور پاکستان کے لیے مستقل پرفارم کرنا ہے۔

آئی سی سی ون ڈے بیٹنگ رینکنگ میں سعد بیگ اس وقت 224ویں پوزیشن پر موجود ہیں، ڈیبیو سیریز میں 185 رنز بنانے کے بعد ان کی ریٹنگ میں مزید بہتری متوقع ہے

Related Articles


Back to top button