کرکٹ

سلمان بٹ بابر اعظم پر برس پڑے، راشد لطیف نے بڑا مشورہ دے دیا

سلمان بٹ بابر اعظم کے ریویو پر برس پڑے، راشد لطیف کا جارحانہ کھیل کا مشورہ - 

ویرات کوہلی سے آگے نکلنے کا فارمولاپاکستان کرکٹ میں بابر اعظم ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کے رنز نہیں بلکہ دو سابق کپتانوں کے اہم بیانات ہیں۔

 ایک طرف سلمان بٹ نے بابر کے غلط ریویو پر سخت سوال اٹھا دیا ہے تو دوسری طرف راشد لطیف نے بابر کو ویرات کوہلی سے بھی آگے لے جانے والا مشورہ دے دیا ہے۔

سلمان بٹ کا ریویو پر اعتراض - غیر ضروری فیصلہ؟

سابق اوپنر سلمان بٹ کے مطابق جب آپ واضح طور پر آؤٹ نظر آ رہے ہوں اور پیچھے پوری بیٹنگ لائن باقی ہو تو ریویو لینے کا کوئی تک نہیں بنتا۔ سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں ہر ریویو قیمتی ہوتا ہے،

 خاص طور پر سری لنکا کے خلاف سہ ملکی سیریز جیسے اہم میچ میں۔ ایک غلط ریویو پوری ٹیم کی حکمت عملی پر بھاری پڑ سکتا ہے، کیونکہ بعد میں کسی مستحق بلے باز کو اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

شائقین بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ بابر جیسے تجربہ کار کھلاڑی سے ایسے دباؤ والے لمحات میں بہتر فیصلے کی توقع کی جاتی ہے۔ کیا یہ دباؤ کا اثر تھا یا میچ کی صورتحال کو نہ سمجھنے کی غلطی؟ یہ سوال اب گردش کر رہا ہے۔

راشد لطیف کا بڑا مشورہ - 

جارحیت ہی حل ہےدوسری جانب سابق وکٹ کیپر کپتان راشد لطیف نے بابر کے تکنیکی مسئلے پر بات کی۔ ان کے مطابق بابر اعظم کے پاس تکنیک، ٹیلنٹ اور رنز بنانے کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں، اصل مسئلہ انٹینٹ کا ہے۔

راشد لطیف کا ماننا ہے کہ بابر کو ون ڈے میں شروع سے ہی زیادہ جارحانہ ہونا پڑے گا۔ ہر گیند کو دفاعی انداز میں کھیلنے کے بجائے پاور پلے اور فیلڈنگ کی پابندیوں کا فائدہ اٹھانا ہوگا۔ 

اگر بابر اپنی کلاسیکل تکنیک کے ساتھ اسٹرائیک ریٹ میں بہتری لے آئیں تو وہ نہ صرف جلد سنچریاں بنائیں گے بلکہ پاکستان کو 320-350 جیسے بڑے ٹوٹلز تک بھی لے جا سکتے ہیں۔

اصل کہانی کیا ہے؟

دونوں سابق کھلاڑیوں کی باتوں کا نچوڑ ایک ہی ہے۔ سلمان بٹ گراؤنڈ میں ذہنی مضبوطی کی بات کر رہے ہیں جبکہ راشد لطیف کھیل میں تبدیلی کی۔ بابر اعظم کا ویرات کوہلی سے موازنہ ہمیشہ ہوتا ہے،

 لیکن کوہلی نے اپنے کیریئر کے درمیان میں جارحیت کو اپنا کر خود کو بدلا تھا۔بابر کے پاس اپنی الگ پہچان بنانے کا اب بھی موقع ہے۔ سہ ملکی سیریز میں 45، 34، 10 جیسی اننگز کے بعد اب انہیں صرف رنز نہیں، بلکہ میچ جتوانے والے تیز رنز اور دباؤ میں درست فیصلے کر کے جواب دینا ہوگا۔

Related Articles


Back to top button