رونالڈو نے پھرمیسی کو پیچھے چھوڑ دیا، 2008 کا بیلن ڈی اور بہترین قرار،میسی دوسرےنمبرپر
رونالڈو نے پھرمیسی کو پیچھے چھوڑ دیا، 2008 کا بیلن ڈی اور بہترین قرار،میسی دوسرےنمبرپر
فٹبال کی دنیا میں رونالڈو اور میسی کی تاریخی رقابت میں ایک اور دلچسپ موڑ آگیا،پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ایک بار پھر اپنے دیرینہ حریف لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
بیلن ڈی اور کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر شائقین کی ووٹنگ میں رونالڈو کے مانچسٹر یونائیٹڈ کے ساتھ 2007-08 کے سیزن کو ان تمام سیزنز میں بہترین قرار دیا گیا جن میں انہوں نے یہ اعزاز جیتا تھا، جبکہ میسی کا 2012 کا سیزن دوسرے نمبر پر رہا۔
فرانس فٹبال کی جانب سے بیلن ڈی اور کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی ایوارڈ ’’بی او اے ٹی‘‘ متعارف کرایا گیا، جس کے لیے شائقین نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ اس ووٹنگ میں کرسٹیانو رونالڈو پہلے نمبر پر رہے،
جبکہ ارجنٹینا کے لیونل میسی دوسرے اور رونالڈو کا 2017 میں ریال میڈرڈ کے ساتھ سیزن تیسرے نمبر پر آیا۔
رونالڈو نے 2007-08 کے سیزن میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے تمام مقابلوں میں 42 گول اسکور کیے تھے۔ ان کی شاندار کارکردگی کی بدولت مانچسٹر یونائیٹڈ نے پریمیئر لیگ اور یوئیفا چیمپئنز لیگ کے ٹائٹل جیتے،
جبکہ رونالڈو نے اسی کارکردگی پر 2008 کا بیلن ڈی اور بھی اپنے نام کیا تھا۔دوسری جانب لیونل میسی کا 2012 کا سیزن دوسرے نمبر پر رہا۔ اس سال میسی نے ایک کیلنڈر ایئر میں مجموعی طور پر 91 گول کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
وہ 2017 میں پانچویں مرتبہ بیلن ڈی اور جیتنے والے رونالڈو کے سیزن کے مقابلے میں ووٹنگ میں آگے رہے۔تاہم اس خصوصی ووٹنگ کے طریقہ کار پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں،
کیونکہ ووٹ ڈالنے کے لیے ایک یورو فیس مقرر تھی اور شائقین کو متعدد مرتبہ ووٹ دینے کی اجازت حاصل تھی۔ اس طرح زیادہ رقم خرچ کرنے والے افراد زیادہ ووٹ ڈال سکتے تھے۔
منتظمین کے مطابق پانچ ہزار سے زائد افراد نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ دیا، جس کے باعث نتائج میں عوامی حمایت کے ساتھ ووٹنگ کے طریقہ کار پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ درجہ بندی شائقین کی عوامی ووٹنگ کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اسے بیلن ڈی اور یا سپر بیلن ڈی اور کے کسی باضابطہ اعزاز کا درجہ حاصل نہیں ہے۔
رونالڈو کے 2008 کے تاریخی سیزن نے شائقین کی ووٹنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی، جبکہ میسی کا ریکارڈ ساز 2012 کا سیزن دوسرے نمبر پر رہا، تاہم ووٹنگ کے طریقہ کار نے اس مقابلے کے نتائج پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔