مضامین
زوم جمہوریت اور تائیکوانڈو کی سیاست: ایک میٹنگ، تین عہدے اور قومی کھیل پالیسی کا جنازہ
زوم جمہوریت اور تائیکوانڈو کی سیاست: ایک میٹنگ، تین عہدے اور قومی کھیل پالیسی کا جنازہ
مسرت اللہ جان
پاکستان میں کھیلوں کے مسائل اگر رنگ میں ہوتے تو شاید اتنے دلچسپ نہ لگتے، مگر جب یہ مسائل زوم اسکرین پر آ جائیں تو کہانی خود بخود طنز بن جاتی ہے۔ بلوچستان تائیکوانڈو ایسوسی ایشن نے یکم جنوری 2025 کو پاکستان اسپورٹس بورڈ کو ایک ایسا خط لکھا ہے جو صرف ایک شکایت نہیں بلکہ ہمارے کھیلوں کے نظام کا ایک مکمل ایکسرے ہے۔ اس خط میں الزام یہ نہیں کہ کسی نے کِک غلط ماری یا پوائنٹ کم دیا، بلکہ یہ ہے کہ پورا انتخابی عمل ہی وائی فائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ کہانی یوں ہے کہ پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن کے صدر جناب وسیم احمد نے یکم جنوری 2026 کو زوم کے ذریعے جنرل کونسل کا اجلاس بلایا۔ اجلاس بلانا بذات خود کوئی جرم نہیں، مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں اسی آن لائن اجلاس میں اگلے چار سال کے لیے صدر، جنرل سیکرٹری اور خزانہ دار کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ نبیل احمد صدر، ناجیہ رسول جنرل سیکرٹری اور ڈاکٹر اظہار الحق خزانہ دار۔ یعنی نہ انتخابی شیڈول، نہ ووٹر لسٹ، نہ خفیہ بیلٹ۔ بس اعلان، وہ بھی آن لائن۔ بلوچستان تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی کھیلوں کی پالیسی، پاکستان اسپورٹس بورڈ کے قواعد و ضوابط اور خود پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن کے آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ آئین کہتا ہے کہ جنرل کونسل کے اجلاس اور انتخابات جسمانی طور پر، شفاف انداز میں اور پی ایس بی کی نگرانی میں ہوں گے۔ مگر یہاں تو نہ جسمانی موجودگی تھی، نہ نگرانی۔ البتہ “آپ کی آواز آ رہی ہے؟” اور “سر آپ فریز ہو گئے ہیں” جیسے جملے ضرور گونجتے رہے ہوں گے۔ خط میں یاد دلایا گیا ہے کہ ماضی میں پاکستان اسپورٹس بورڈ نے کبڈی، اسکواش اور دیگر فیڈریشنز کے انتخابات کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیے۔ کبڈی فیڈریشن کا الیکشن شیڈول 30 ستمبر 2025، اسکواش فیڈریشن کی ووٹر فہرست 14 نومبر 2025 اور الیکشن شیڈول 20 نومبر 2025 کو پی ایس بی نے خود جاری کیا۔ وہاں انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوئے۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ لنک شیئر کریں، یا پاس کوڈ غلط ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ زوم اچھی چیز ہے یا بری۔ سوال یہ ہے کہ کیا قومی کھیلوں کے انتخابات بھی اب آن لائن کلاسز کی طرح ہو جائیں گے؟ کیا کل کو اسپورٹس بورڈ یہ سنے گا کہ “سر الیکشن تو ہو گیا تھا مگر نیٹ سست تھا اس لیے بلوچستان کے ووٹ نہیں آ سکے”؟ بلوچستان ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس زوم اجلاس نے جائز صوبائی باڈی کو آزادانہ اور منصفانہ شرکت کے حق سے محروم کر دیا۔ جب ووٹ ڈالنے کا حق ہی نہیں دیا گیا تو نتیجہ پہلے سے معلوم تھا۔ شفافیت وہیں دم توڑ گئی جہاں میوٹ بٹن آن ہوا۔ جمہوری عمل کمزور ہوا اور ایک خطرناک روایت قائم ہو گئی کہ طاقتور لوگ اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر فیصلے کر سکتے ہیں یہ معاملہ صرف تائیکوانڈو تک محدود نہیں۔ یہ ہمارے پورے کھیلوں کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک قومی فیڈریشن پی ایس بی کے مینڈیٹ کو نظرانداز کر کے اپنے طور پر انتخابات کرا سکتی ہے تو پھر اسپورٹس بورڈ کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟ کیا پی ایس بی صرف سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کا ادارہ ہے یا واقعی کھیلوں کی حکمرانی کا نگران؟ خط میں واضح طور پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ زوم کے ذریعے منعقدہ جنرل کونسل اجلاس کو کالعدم قرار دیا جائے، اسی میٹنگ میں کیے گئے تمام انتخابی اعلانات کو غیر قانونی اور ناجائز ٹھہرایا جائے، قومی کھیل پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور پی ایس بی کی نگرانی میں نئے، شفاف اور آئینی انتخابات کرائے جائیں۔ یہ مطالبات کوئی غیر معمولی نہیں۔ یہ وہی اصول ہیں جو ہر فیڈریشن کے لیے ہونے چاہئیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کھیل اکثر میدان سے زیادہ فائلوں، نوٹیفکیشنز اور اب زوم لنکس پر کھیلے جاتے ہیں۔ مزاح یہاں یہ ہے کہ تائیکوانڈو جیسے سخت اور اصولی کھیل میں، جہاں ہر کِک اور پنچ کے پوائنٹس طے ہیں، انتظامی سطح پر کوئی اصول نظر نہیں آ رہا۔ کھلاڑی کو اگر بیلٹ کے بغیر فائٹ میں اتار دیا جائے تو شور مچ جاتا ہے، مگر جب فیڈریشن بغیر بیلٹ کے الیکشن کرا لے تو سب خاموش۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آن لائن فیصلوں نے کھیلوں میں فاصلے اور بڑھا دیے ہیں۔ صوبے جو پہلے ہی وسائل اور نمائندگی کے بحران کا شکار ہیں، وہ اس طرح کے اقدامات سے مزید دیوار سے لگ جاتے ہیں۔ بلوچستان جیسے صوبے کے لیے یہ صرف ایک الیکشن نہیں بلکہ اپنے وجود اور آواز کا سوال ہے۔ اب گیند پاکستان اسپورٹس بورڈ کے کورٹ میں ہے۔ یا تو پی ایس بی قومی کھیل پالیسی کی حفاظت کرے گا، یا پھر یہ تسلیم کر لے گا کہ اب کھیلوں کی جمہوریت ڈیجیٹل شارٹ کٹ پر چل پڑی ہے۔ اگر آج زوم پر صدر بن سکتا ہے تو کل واٹس ایپ پر کوچ، اور پرسوں شاید انسٹاگرام لائیو پر سلیکشن کمیٹی بھی بن جائے۔ آخر میں بلوچستان تائیکوانڈو ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ فوری اور منصفانہ کارروائی کرے گا، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور انصاف کو یقینی بنائے گا۔ یہ امید صرف ایک صوبے کی نہیں بلکہ ان تمام کھلاڑیوں کی ہے جو اب بھی سمجھتے ہیں کہ کھیل میدان میں جیتا جاتا ہے، اسکرین پر نہیں۔ LETTER DELIVERED TO PSB FIA FBR