پاکستان میں کھیلوں کی ترقی یا سوشل میڈیا کا تماشا؟ حقیقی ایتھلیٹس کو آخر کون سپورٹ کرے گا؟
پاکستان میں کھیلوں کی ترقی یا سوشل میڈیا کا تماشا؟ حقیقی ایتھلیٹس کو آخر کون سپورٹ کرے گا؟
تحریر ; محمد فراز : پاکستان میں الٹرا رننگ کے نام پر ایک ایسا رجحان فروغ پا رہا ہے جس پر خاموش رہنا کھیلوں سے مخلص لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ دوڑ ایک عظیم کھیل ہے،
لیکن افسوس کہ بعض افراد اسے صرف اسپانسرشپ، سوشل میڈیا ویڈیوز، شہرت اور چند لائکس حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ نہ کوئی واضح کھیلوں کا مقصد، نہ قابلِ تصدیق کارکردگی،
نہ مکمل GPS یا Strava ریکارڈ، اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کہ یہ سرگرمی پاکستان کے کھیلوں کی ترقی میں کیا کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر کوئی سینکڑوں کلومیٹر دوڑنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی کارکردگی کا شفاف ثبوت سامنے آنا چاہیے۔ کھیل میں دعووں سے زیادہ اہم حقیقت اور دیانت داری ہے۔
سب سے زیادہ افسوس ان میڈیا اداروں اور صحافیوں پر ہوتا ہے جو بغیر کسی تحقیق، تصدیق یا سوال کے ایسے دعووں کو قومی کارناموں کی طرح پیش کرتے ہیں۔
میڈیا کی ذمہ داری صرف کسی کو مشہور کرنا، جذباتی ویڈیوز بنانا اور سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنا نہیں، بلکہ حقیقت کو سامنے لانا بھی ہے۔
کسی کو قومی ہیرو بنانے سے پہلے اس کی کارکردگی، تیاری، مقصد اور شفافیت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بغیر تحقیق کے تشہیر صحافت نہیں، بلکہ غیر ذمہ دارانہ پروپیگنڈا بن سکتی ہے۔
میڈیا کو چاہیے کہ وہ غیر مصدقہ دعووں کو بڑھاوا دینے کے بجائے پاکستان کے حقیقی ایتھلیٹس، قومی چیمپئنز اور بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کو نمایاں کرے۔
اسپانسرز سے بھی ایک بنیادی سوال ہے: ہمارے قومی ایتھلیٹس کو مالی معاونت کیوں نہیں ملتی، جبکہ سوشل میڈیا پر ایک غیر معمولی رننگ چیلنج پیش کرنے والوں کے لیے اسپانسرز فوراً دستیاب ہو جاتے ہیں؟
ہمارے کھلاڑی برسوں ٹریننگ کرتے ہیں، قومی ریکارڈز اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے محنت کرتے ہیں، لیکن وسائل اور مواقع کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔
کیا اسپانسرشپ کا معیار صرف فالوورز، ویوز اور ویڈیوز ہونا چاہیے؟ اگر پاکستان میں کھیلوں کی ترقی واقعی مقصد ہے تو اسپانسرز کو میرٹ، مستند کارکردگی اور قومی نمائندگی کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔
ہر رننگ چیلنج غلط نہیں، اور ہر غیر منظور شدہ ایونٹ بے مقصد نہیں ہوتا، لیکن قومی کھیلوں کے محدود وسائل کو ترجیح دیتے وقت ہمیں واضح سوچ رکھنی چاہیے۔
اولمپک ڈسپلنز، World Athletics سے منظور شدہ مقابلوں، قومی چیمپئن شپ اور مستند ایتھلیٹکس پروگرامز کو مضبوط کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔
ہمیں ایسے ایتھلیٹس کی حمایت کرنی چاہیے جو حقیقی مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، نہ کہ صرف تشہیر کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والوں کی۔
پاکستان کو ایسے میڈیا، اسپانسرز اور اسپورٹس اداروں کی ضرورت ہے جو کھیل کی حقیقت کو سمجھیں۔ ہمیں حقیقی ایتھلیٹس کو نظر انداز کرکے سوشل میڈیا کے شور کو کھیلوں کی ترقی کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔
نوجوانوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کھیل صرف شہرت کا نام نہیں، بلکہ نظم و ضبط، محنت، دیانت داری اور مسلسل تربیت کا سفر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم ویوز کے بجائے کارکردگی، شہرت کے بجائے میرٹ اور سوشل میڈیا کے تماشے کے بجائے حقیقی کھیلوں کی ترقی کو ترجیح دیں۔
پاکستان کے حقیقی ہیروز وہ ہیں جو میدان میں اپنی محنت سے پہچانے جاتے ہیں، نہ کہ صرف کیمرے کے سامنے اپنے دعووں سے۔