کرکٹ

نوجوان ٹیلنٹ کی شاندار کارکردگی - لاہور ریجن کی دونوں ٹیموں نے قومی انڈر 19 چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

دونوں ٹیموں کی کوارٹر فائنلز میں شاندار کارکردگی،

 لاہور وائٹس نے فیصل آباد کو 6 وکٹوں سے شکست دی،

 جبکہ لاہور بلوز نے پہلی اننگز کی برتری پر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

رپورٹ: عابد حسین

لاہور: قومی انڈر 19 (تین روزہ) چیمپئن شپ کے کوارٹر فائنلز میں لاہور ریجن کی دونوں ٹیموں، لاہور ریجن بلوز اور لاہور ریجن وائٹس نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔

 دونوں ٹیموں کی کامیابی نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں، تکنیکی مہارت اور دباؤ میں بہتر کھیل پیش کرنے کی عکاس ہے۔

فیصل آباد میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میں لاہور ریجن وائٹس نے میزبان فیصل آباد ریجن کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ 

فیصل آباد ریجن نے اپنی پہلی اننگز میں 242 رنز بنائے، جس کے جواب میں لاہور وائٹس نے 245 رنز اسکور کرکے پہلی اننگز میں 3 رنز کی قیمتی برتری حاصل کی۔ 

لاہور وائٹس کی جانب سے نوید ایوب نے 64 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ بولنگ میں عباس خان نے 4 اور محمد اویس نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

فیصل آباد ریجن نے دوسری اننگز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 221 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کی اور لاہور وائٹس کو فتح کے لیے 219 رنز کا ہدف دیا۔ 

لاہور وائٹس نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطلوبہ ہدف 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ احمد خواجہ نے 98 رنز کی ناقابل شکست شاندار اننگز کھیل کر فتح میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ علی کھوکھر نے 49 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔

دوسری جانب لاہور ریجن بلوز نے اپنے کوارٹر فائنل میں پشاور ریجن بلوز کے خلاف پہلی اننگز میں برتری کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرکے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ لاہور بلوز نے پہلی اننگز میں 262 رنز اسکور کیے،

 جس کے جواب میں پشاور بلوز کی پوری ٹیم 217 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ یوں لاہور بلوز کو پہلی اننگز میں 45 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔

لاہور بلوز نے دوسری اننگز میں مزید جارحانہ اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹوں کے نقصان پر 340 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کردی اور پشاور ریجن کو فتح کے لیے 386 رنز کا ہدف دیا۔ 

کھیل کے تیسرے اور آخری روز اختتام تک پشاور بلوز نے دوسری اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 27 رنز بنائے تھے، تاہم مقررہ تین روزہ کھیل مکمل ہونے پر پہلی اننگز کی برتری کے باعث لاہور بلوز کو کامیاب قرار دیا گیا۔

اس میچ کے نمایاں کھلاڑی لاہور بلوز کے ابتسام اظہر رہے، جنہوں نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ میں مجموعی طور پر 7 وکٹیں حاصل کیں 

اور ساتھ ہی ناقابل شکست سنچری بھی اسکور کی۔ ان کی اس غیر معمولی کارکردگی پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی (مین آف دی میچ) قرار دیا گیا۔

صدر لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن خواجہ ندیم احمد نے لاہور ریجن بلوز اور لاہور ریجن وائٹس کی سیمی فائنل میں کامیابی پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں، 

ہیڈ کوچز، کوچنگ اسٹاف، ٹیم منیجمنٹ اور کرکٹ آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ٹیموں نے قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کی محنت، عزم، نظم و ضبط اور کھیل سے وابستگی قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ریجن کا انڈر 19 ٹیلنٹ مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا۔ دونوں ٹیموں کی سیمی فائنل تک رسائی لاہور ریجن میں جاری کرکٹ سرگرمیوں، نوجوان کھلاڑیوں کی تیاری اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے کی جانے والی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

خواجہ ندیم احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع، معیاری مقابلوں اور سازگار کرکٹ ماحول کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ 

انہوں نے دونوں ٹیموں کے لیے سیمی فائنل اور آئندہ مراحل میں بھی کامیابی اور قومی ٹائٹل اپنے نام کرنے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Related Articles


Back to top button