ہار کا خوف نہیں، کھیل دکھاؤ - ہیڈ کوچ احسان اللہ خان کی آذربائیجان مہم کے بعد پریس کانفرنس
پی ایف ایف کا پاکستان کی منفرد فٹبال شناخت قائم کرنے کا عزم،
بنیادی اصولوں پر مہارت سے عالمی سطح پر مقام بنانے کا ہدف
فیفا انڈر 15 ورلڈ کپ میں تاریخی شرکت کے بعد کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں نکھار،
ڈومیسٹک فٹبال کے ڈھانچے کی بہتری اور گراس روٹ سطح سے ٹیلنٹ کی تربیت پر زور
پاکستان فٹبال فیڈریشن نے ملک میں فٹبال کی ایک منفرد شناخت قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس کے لیے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں نکھار،کھیل کے بنیادی اصولوں پر مہارت اور ڈومیسٹک فٹبال کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا اہم ترجیحات قرار دی گئی ہیں۔
یہ بات پاکستان کی جانب سے آذربائیجان میں فیفا انڈر 15 ورلڈ کپ اینڈ فیسٹیول 2026 میں تاریخی شرکت کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں سامنے آئی، جو اتوار کی صبح اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔
ٹیم کی وطن واپسی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہیڈ کوچ احسان اللہ خان نے کہا کہ اس ایونٹ میں شرکت کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں نکھار لانا،
انہیں بین الاقوامی مقابلوں کا تجربہ فراہم کرنا اور مختلف فٹبال ثقافتوں سے تعلق رکھنے والی ٹیموں کے خلاف زیادہ سے زیادہ میچز کھیلنے کے مواقع دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کوچنگ اسٹاف نے کھلاڑیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ہارنے کے خوف کے بغیر میدان میں اتریں، اپنے کھیل کا بھرپور اظہار کریں اور فٹبال کے بنیادی اصولوں پر توجہ مرکوز رکھیں۔
احسان اللہ خان کے مطابق دنیا کی کامیاب فٹبال قومیں کھیل کے بنیادی اصولوں پر غیر معمولی مہارت رکھتی ہیں اور پاکستان کی تیاری کا محور بھی اسی طرزِ عمل کو اپنانا تھا۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اگر پاکستان مستقل مزاجی کے ساتھ ان بنیادی اصولوں کو اپنی فٹبال کی بنیاد بنائے تو ملک کے لیے دنیا کی صفِ اول کی فٹبال قوموں میں شامل ہونا ناممکن نہیں۔
ہیڈ کوچ نے پاکستان کو اس اہم سیکھنے کے موقع سے محروم نہ رہنے دینے پر صدر پی ایف ایف سید محسن گیلانی اور فیڈریشن کا شکریہ ادا کیا،
جبکہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے آذربائیجان آنے والے والدین کی حمایت کو بھی سراہا۔ انہوں نے صدر پی ایف ایف کی جانب سے کھلاڑیوں کی ذاتی حوصلہ افزائی اور ہر کھلاڑی کے لیے اضافی 25 ہزار روپے انعام کے اعلان کو بھی اہم قرار دیا۔
ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے احسان اللہ خان نے بنیادی مہارتوں کے عملی مظاہرے اور دفاعی ٹرانزیشن کو اہم شعبے قرار دیا جن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے وقت، مسلسل تربیت اور مسابقتی فٹبال کے مزید مواقع درکار ہوں گے۔
پی ایف ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر عدیل رزقی نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شرکت سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لینے اور دیگر ٹیموں کے مقابلے میں موجود فرق کو سمجھنے کا اہم موقع ملا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم میں نتائج ثانوی حیثیت رکھتے تھے، جبکہ اصل توجہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں نکھار اور ان شعبوں کی نشاندہی پر تھی جہاں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
ڈومیسٹک فٹبال کے مستقبل سے متعلق سوال کے جواب میں عدیل رزقی نے کہا کہ ملک میں فٹبال کے فروغ کے لیے موجودہ ڈھانچے کی ازسرِنو تنظیم ضروری ہے۔
ان کے مطابق گراس روٹ سطح سے ایک منظم نظام تشکیل دینے پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کی بروقت شناخت، تربیت اور صلاحیتوں میں نکھار یقینی بنایا جا سکے اور کوئی بھی ٹیلنٹ مناسب مواقع نہ ملنے کے باعث ضائع نہ ہو۔
پی ایف ایف کے ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کمیونیکیشنز عمید وسیم نے حکومتی تعاون سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا کہ تربیتی سرگرمیوں کے لیے سرکاری سطح پر چلنے والی سہولیات دستیاب ہیں۔
انہوں نے ڈومیسٹک انڈر 17 چیمپئن شپ کے دوران ٹیموں کے لیے رہائش اور مقابلوں کے انعقاد کے لیے وینیوز کی فراہمی کا بھی ذکر کیا۔
ورلڈ کپ میں شرکت کے تجربے پر بات کرتے ہوئے پاکستان انڈر 15 ٹیم کے کھلاڑی الہان خان نے کہا کہ وہ اس ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر بے حد خوش ہیں۔
ان کے مطابق ٹیم نے اردن جیسی مضبوط حریف ٹیم کے خلاف بھی عمدہ کھیل پیش کیا اور اگر اہم مواقع سے فائدہ اٹھایا جاتا تو پاکستان ٹورنامنٹ میں مزید بہتر پوزیشن حاصل کر سکتا تھا۔
ٹیم کے ایک اور کھلاڑی اویس نے بھی صدر پی ایف ایف سید محسن گیلانی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے پوری مہم کے دوران ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی کو سراہا۔
پریس کانفرنس میں آذربائیجان میں حاصل ہونے والے تجربے کو پاکستان فٹبال کے لیے ایک اہم سیکھنے کا موقع قرار دیا گیا۔
مستقبل میں ان تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں مزید نکھار، ڈومیسٹک مقابلوں کے معیار میں بہتری اور نوجوان فٹبالرز کے لیے ایک واضح راستہ تشکیل دینے پر توجہ مرکوز رہے گی۔