کرکٹ
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ آج سے برمنگھم میں شروع ہوگا
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ آج سے برمنگھم میں شروع ہوگا
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ آج سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔ انگلینڈ پہلے ہی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرچکا ہے، جبکہ پاکستان نئی ٹیم کمبی نیشن اور نئی کوچنگ سیٹ اپ کے ساتھ سیریز کا اختتام فتح سے کرنے کی کوشش کرے گا۔پاکستان کو سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں لیڈز کے مقام پر ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی تھی، جبکہ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز اپنے نام کرلی تھی۔اب قومی ٹیم کے سامنے آخری چیلنج ایجبسٹن میں ہے، جہاں پاکستان کی نظریں نہ صرف وائٹ واش سے بچنے بلکہ سیریز میں پہلی کامیابی حاصل کرنے پر بھی ہیں۔تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، نئے بولنگ کوچ نوفکے اور سات کھلاڑیوں کی انگلینڈ آمد کے بعد ٹیم نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ ایسے میں قومی ٹیم کی نظریں سیریز کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرنے پر مرکوز ہیں۔ایجبسٹن ٹیسٹ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ٹیم اور شائقین کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، اسی لیے وہ ہر مشکل صورتحال میں بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔بابر اعظم کا کہنا تھا کہ مثبت سوچ کے ساتھ اچھا کھیلنا ہمیشہ ان کا ہدف ہوتا ہے اور وہ ایک میچ کے نتائج کو ذہن پر سوار کرنے کے بجائے اگلے میچ پر توجہ مرکوز کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ قومی کپتان نے ایجبسٹن کو اپنے لیے لکی گراؤنڈ بھی قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ وہ یہاں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق بابر اعظم نے کہا کہ جب نتائج اچھے نہ ہوں تو تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں، بورڈ نے جو بھی فیصلہ کیا ہوگا، سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے بھی پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کو آسان مقابلہ قرار دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی تمام توجہ اگلے پانچ دنوں پر مرکوز ہوگی اور انگلینڈ بڑی اسکورنگ کے ساتھ اچھی کرکٹ کھیلنے کے ارادے سے میدان میں اترے گا۔ انگلینڈ کی قیادت جو روٹ کریں گے جبکہ پاکستان ٹیم بابر اعظم کی کپتانی میں میدان سنبھالے گی۔ انگلینڈ جہاں سیریز میں کلین سوئپ مکمل کرنے کا خواہاں ہے، وہیں پاکستان کے لیے ایجبسٹن ٹیسٹ عزتِ نفس کی بحالی اور سیریز میں پہلی کامیابی حاصل کرنے کا آخری موقع ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اترنے والی پاکستانی ٹیم ایجبسٹن میں تاریخ بدل پاتی ہے یا انگلینڈ سیریز میں وائٹ واش مکمل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔